۳۳۳۱ : وَحَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ قَالُوْا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ أَبِیْ مَرْزُوْقٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ فَضَالَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہُ قِیْلَ لَہُمْ : وَھٰذَا أَیْضًا مِثْلُ الْأَوَّلِ یَجُوْزُ (وَلٰـکِنِّیْ قِئْتُ فَضَعُفْتُ عَنِ الصَّوْمِ فَأَفْطَرْتُ) وَلَیْسَ فِیْ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ الْقَیْئَ کَانَ مُفْطِرًا لَہٗ إِنَّمَا فِیْہِ أَنَّہٗ قَائَ فَأَفْطَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ وَقَدْ رُوِیَ فِیْ حُکْمِ الصَّائِمِ اِذَا قَائَ أَوِ اسْتَقَائَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُفَسَّرًا۔
٣٣٣١: حنش نے فضالہ بن عبید (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ان دونوں روایات میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ قے سے روزہ ٹوٹا ۔ البتہ اس میں اتنی بات ہے کہ آپ نے قے کی پھر اس کے بعد روزہ افطار کردیا اور قے آنے اور جان بوجھ کر کرنے میں روزے کے حکم سے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واضح روایت وارد ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
الجواب : ان روایات کا مفہوم بھی تو وہی ہے کہ مجھے قے آئی جس کی وجہ سے ضعف پیدا ہوا پس میں نے افطار کرلیا تفصیلی روایات ہمارے اس جواب کی مؤید ہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف :
اگر کوئی جان بوجھ کر منہ بھر کر قے کر دے تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور قے آگئی تو اس کا روزہ نہ ٹوٹے گا۔ دلائل یہ ہیں۔