hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 337

.

الطحاوي

337
Al Tahawi
۳۳۷ : أَنَّ فَہْدًا حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ ، عَنْ زَیْدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، ہُوَ ابْنُ یَزِیْدَ ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ قَالَ : سَمِعْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَخْطُبُ فَقَالَ : إِنَّ نِسَائَ الْأَنْصَارِ تُفْتِیْنَ أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا جَامَعَ فَلَمْ یُنْزِلْ ، فَإِنَّ عَلَی الْمَرْأَۃِ الْغُسْلَ ، وَلَا غُسْلَ عَلَیْہِ ، وَإِنَّہٗ لَیْسَ کَمَا أَفْتَیْنَ ، وَإِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ھٰذَا الْأَثَرِ أَنَّ الْأَنْصَارَ کَانُوْا یَرَوْنَ أَنَّ الْمَائَ مِنَ الْمَائِ ، إِنَّمَا ہُوَ فِی الرِّجَالِ الْمُجَامِعِیْنَ ، لَا فِی النِّسَائِ الْمُجَامِعَاتِ ، وَأَنَّ الْمُخَالَطَۃَ تُوْجِبُ عَلَی النِّسَائِ الْغُسْلَ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہَا إِنْزَالٌ .وَقَدْ رَأَیْنَا الْاِنْزَالَ یَسْتَوِیْ فیْہِ حُکْمُ النِّسَائِ وَالرِّجَالِ ، فِیْ وُجُوْبِ الْغُسْلِ عَلَیْہِمْ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ حُکْمُ الْمُخَالَطَۃِ الَّتِیْ لَا إِنْزَالَ مَعَہَا ، یَسْتَوِیْ فیْہَا حُکْمُ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ ، فِیْ وُجُوْبِ الْغُسْلِ عَلَیْہِمْ .
٣٣٧: ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خطبہ دیتے سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ انصار کی عورتیں فتویٰ دیتی ہیں کہ مرد جب جماع کرے اور انزال نہ ہو تو عورت پر غسل لازم ہے اور مرد پر غسل نہیں حالانکہ بات اس طرح نہیں جیسا وہ کہتی ہیں بلکہ جب ختان ختان سے مل جائے تو غسل لازم ہوجاتا ہے۔
طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس اثر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ انصار کا خیال تھا کہ الماء من الماء یعنی انزال سے غسل لازم ہوتا ہے اور یہ صرف مردوں کے سلسلہ میں کہتے تھے عورتوں کے سلسلہ میں فقط جماع کو غسل کی وجہ قرار دیتے تھے خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔
حالانکہ انزال کا حکم مردوں اور عورتوں کے سلسلہ میں یکساں ہے یکساں طور پر اس سے غسل لازم آتا ہے۔
بنظر غائر اس جماع کا حکم جس میں انزال نہ ہو یکساں ہونا چاہیے کہ مرد و عورت دونوں پر غسل لازم ہو۔ واللہ اعلم۔
` بَابُ أَکْلِ مَا غَیَّرَتَ النَّارُ ، ہَلْ یُوْجِبُ الْوُضُوْئَ أَمْ لَا ؟ `
آگ سے پکی چیز کھا لینے سے وضو لازم ہے یا نہیں
خلاصہ الزام : قرن اول میں صحابہ کرام کی ایک جماعت جس میں حضرت ابو موسیٰ اشعری و انس زید بن ثابت ‘ عائشہ صدیقہ ‘ ابوہریرہ (رض) شامل ہیں آگ سے پکی چیز کھا لینے کو ناقض وضو قرار دیتے تھے جبکہ حضرات خلفاء اربعہ ابن عباس ‘ امّ سلمہ ‘ ابو سعید ٠ تذکرہ کیا اور خالفہم میں دوسروں کا۔
تفصیلات ملاحظہ ہوں۔