۳۳۷۱ : وَقَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَا لَا یَرَیَانِ بِالْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا وَقَالَا : أَرَأَیْتُ لَوْ اِحْتَجَمَ عَلٰی ظَہْرِ کَفِّہٖ أَکَانَ ذٰلِکَ یُفْطِرُہٗ؟
٣٣٧١: یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ اور قاسم بن محمد دونوں روزہ دار کے حق میں سینگی لگوانے میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے۔ اور وہ کہا کرتے تھے کہ تم بتلاؤ اگر ہتھیلی کی پشت پر سینگی لگوائی جائے تو کیا یہ اس کے روزے کو توڑ دے گی ؟ (جب اس کو کوئی بھی مفطر صوم خیال نہیں کرتا تو اسی طرح پشت و کمر وغیرہ پر سینگی سے کیوں کر ٹوٹ جائے گا۔
حاصل روایات : اس باب میں روزے کے فساد و عدم فساد کا اختلاف ہے امام طحاوی (رح) کی رائے فریق ثانی کے ساتھ ہے اس لیے سات صحابہ سے نقل کردہ روایت کا جواب خوب تطبیقی انداز سے دیا پھر تین صحابہ سے دس اسناد کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روزے کی حالت سینگی لگوانے کا ثبوت پیش کیا۔ پھر تائید میں نظری دلیل اور اقوال تابعین کو ذکر کیا۔