۳۳۹۶ : وَحَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ قَالُوْا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ ہَارُوْنَ بْنِ أُمِّ ہَانِئٍ أَوْ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ ہَانِئٍ عَنْ (أُمِّ ہَانِئٍ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَنَاوَلَنِیْ فَضْلَ شَرَابِہِ فَشَرِبْتُ ثُمَّ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ کُنْتُ صَائِمَۃً وَإِنِّیْ کَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَک فَقَالَ إِنْ کَانَ مِنْ قَضَائِ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَصُوْمِیْ یَوْمًا مَکَانَہُ وَإِنْ کَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتُ فَاقْضِیْہِ وَإِنْ شِئْتُ فَلاَ تَقْضِیْہِ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا فَزَعَمُوْا أَنَّ مَنْ دَخَلَ فِیْ صَوْمٍ تَطَوُّعًا ثُمَّ أَفْطَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْ عُذْرٍ أَوْ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ أَنَّہٗ لَا قَضَائَ عَلَیْہِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : عَلَیْہِ قَضَائُ یَوْمٍ مَکَانَہُ وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی أَنَّ حَدِیْثَ أُمِّ ہَانِئٍ إِنَّمَا رَوَاہُ کَمَا ذَکَرُوْا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ وَقَدْ رَوَاہُ غَیْرُہُ مِمَّنْ لَیْسَ فِی الضَّبْطِ بِدُوْنِہٖ عَلٰی خِلَافِ ذٰلِکَ
٣٣٩٦: سماک بن حرب نے ہارون بن ام ہانی یا ابن بنت ام ہانی عن ام ہانی نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گئی میں روزے سے تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا جوٹھا پانی مجھے عنایت فرمایا تو میں نے پی لیا پھر میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے تو روزہ رکھا تھا مگر میں نے آپ کے جو ٹھے کو مسترد کرنا مناسب نہ سمجھا آپ نے فرمایا۔ اگر تمہارا روزہ قضا رمضان کا ہے تو اس کی جگہ ایک روزہ رکھ لینا اور اگر وہ نفلی روزہ ہے تو تمہاری مرضی ہے قضا کرلو یا نہ قضا کرو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جو شخص نفلی روزہ رکھے پھر اسے توڑدے اس پر قضاء نہیں مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک دن کا روزہ قضاء کرنا ہوگا۔ اوّل قول کے قائلین کے متعلق ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ام ہانی (رض) کی روایت کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے۔ جب کہ ان کے برابر درجہ کے حفاظ اس کے خلاف روایت کرتے ہیں۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
تخریج : مسلم فی الصیام ١٦٩‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٧٢‘ ترمذی فی الصوم باب ٣٤‘ مسند احمد ٦؍٣٤٣‘ ٤٢٤۔
حاصل روایت : ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نفلی روزہ عذر و بلاعذر توڑنے کی صورت میں اس کی قضا لازم نہیں ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
نفلی روزے کو رکھنے کے بعد اگر توڑ دیا جائے تو قضا لازم آئے گی مندرجہ روایات اس کی دلیل ہیں۔
سابقہ مؤقف کا جواب :
مندرجہ بالا روایت کو حماد بن سلمہ سے نقل کیا گیا ہے جبکہ حماد کے علاوہ دیگر روات نے اس سے مختلف انداز سے نقل کیا ہے جو ضبط و اتقان میں حماد کے برابر کے لوگ ہیں۔