۳۳۹۸ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ ابْنِ أُمِّ ہَانِئٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ ہَانِئٍ سَمِعَہٗ مِنْہَا قَالَتْ (إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِشَرَابٍ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَنَاوَلَنِیْ فَشَرِبْتُہٗ وَکُنْتُ صَائِمَۃً فَکَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ سُؤْرِہِ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ کُنْتُ صَائِمَۃً فَقَالَ لَہَا تَقْضِیْنَ عَنْکَ شَیْئًا ؟ قَالَتْ : لَا قَالَ فَلاَ یَضُرُّک) .
٣٣٩٨: احمد بن داؤد نے المقدمی سے دونوں نے ابو عوانہ عن سماک بن حرب عن ابن ام ہانی نے اپنی دادی ام ہانی سے خود سن کر بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فتح مکہ کے دن مشروب لایا گیا پس آپ نے وہ مجھے دیا تو میں نے پی لیا حالانکہ میں نے اس وقت روزہ رکھا تھا مگر میں نے آپ کے بچے ہوئے پانی کو مسترد کرنا پسند نہ کیا۔ پھر میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے تو روزہ رکھا تھا آپ نے فرمایا اپنی طرف سے کیا قضا کرلو گی تو میں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا (پھر تمہیں گناہ نہیں) پس نقصان دہ نہیں۔
تخریج : سابقہ روایت نمبر ٣٣٩٧ کی تخریج ملاحظہ ہو۔ مسلم ١٦٩۔