۳۴۰۰ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیْعِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ آلِ جَعْدَۃَ بْنِ ہُبَیْرَۃَ عَنْ جَدَّتِہِ (أُمِّ ہَانِئٍ قَالَتْ : دَخَلْتُ أَنَا وَفَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَجَلَسْتُ عَنْ یَمِیْنِہِ فَدَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِیْ فَشَرِبْتُ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أُرَانِیْ إِلَّا قَدْ أَثِمْتُ أَوْ أَتَیْتُ حِنْثًا عَرَضْتُ عَلَیَّ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَکَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ .فَقَالَ ہَلْ کُنْتُ تَقْضِیْنَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ .فَقَالَتْ : لَا قَالَ فَلاَ بَأْسَ)
٣٤٠٠: سماک بن حرب نے آل جعدہ بن ہبیرہ کے ایک آدمی سے اس نے اپنی دادی ام ہانی (رض) سے نقل کیا کہتی ہیں کہ میں اور فاطمہ فتح مکہ کے روز جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گئیں میں آپ کے دائیں جانب بیٹھ گئی آپ نے پانی منگوایا اور اس میں سے کچھ پیا پھر مجھے عنایت فرمایا تو میں نے پی لیا حالانکہ میں روزے سے تھی میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے خیال میں ‘ میں نے گناہ کا ارتکاب کیا یا میری قسم ٹوٹ گئی ہے آپ نے مجھے پانی دیا جبکہ میں روزے سے تھی تو میں نے اسی طرح واپس کرنا ناپسند کیا آپ نے فرمایا کیا تم رمضان کے روزے کی قضا کر رہی تھی ؟ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر تم پر کوئی حرج نہیں۔