۳۴۰۳ : فَإِذَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِیُّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ (عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا صَائِمَتَیْنِ مُتَطَوِّعَتَیْنِ فَأُہْدِیَ لَنَا طَعَامٌ فَأَفْطَرْنَا عَلَیْہِ فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاہُ فَقَالَ اقْضِیَا یَوْمًا مَکَانَہٗ) فَفِیْ ھٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ حُکْمَ الْاِفْطَارِ فِی الصَّوْمِ التَّطَوُّعِ أَنَّہٗ مُوْجِبٌ لِلْقَضَائِ فَکَانَ مِمَّا یَحْتَجُّ بِہٖ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْ فَسَادِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ أَصْلَہُ لَیْسَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ وَإِنَّمَا أَصْلُہٗ مَوْقُوْفٌ عَلٰی مَنْ دُوْنَ عُرْوَۃَ وَذٰلِکَ أَنَّ یُوْنُسَ۔
٣٤٠٣: ابن شہاب نے عروہ سے انھوں نے عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ میں نے اور حفصہ (رض) نے نفلی روزے رکھ لیے ہمارے پاس ہدیہ کے طور پر کھانا بھیجا گیا (انہوں نے کھانے پر مجبور کیا) تو ہم نے آپ سے اس سلسلہ میں استفسار کیا آپ نے فرمایا اس کی جگہ ایک دن قضا کرلینا۔ اس روایت میں اس بات کی دلیل مل گئی کہ نفلی روزہ افطار کرلینے کی صورت میں قضاء واجب ہے۔ رہی وہ روایت جس کو قول اول کے قائلین نے دلیل بنایا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس روایت میں شدید کمزوری ہے کہ اس کی اصل حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے ثابت نہیں بلکہ یہ عروہ سے نچلے روات پر موقوف ہے۔ ذیل کا اثر ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی الصوم باب ٧٣‘ ترمذی فی الصوم باب ٣٦۔
حاصل روایات : اس روایت میں صاف دلیل ہے کہ نفلی روزے میں افطار کرنے سے قضا لازم ہے۔
روایت زہری پر اشکال :
اس روایت کا مدار زہری پر ہے اور زہری نے اس کو عروہ سے نقل کیا مگر زہری خود معترف ہے کہ میں نے عروہ سے یہ روایت نہیں سنی جیسا کہ ہم مندرجہ روایات سے ثابت کرتے ہیں۔