hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3407

.

الطحاوي

3407
Al Tahawi
۳۴۰۷ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ وَزَادَ (وَلٰـکِنْ حَدَّثَنِیْ فِیْ خِلَافَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أُنَاسٌ عَنْ بَعْضِ مَنْ کَانَ یَسْأَلُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا) أَنَّہَا قَالَتْ (أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا صَائِمَتَیْنِ) ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیْثَ یَعْنِیْ نَحْوَ حَدِیْثِ رَبِیْعٍ الْجِیْزِیِّ فَقَدْ فَسَدَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ بِمَا قَدْ دَخَلَ فِیْ إِسْنَادِہِ مِمَّا ذَکَرْنَا وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَیْضًا مِنْ غَیْرِ ھٰذَا الْوَجْہِ۔
٣٤٠٧: ابو بکرہ نے روح سے پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے لیکن مجھے خلافت سلیمان بن عبدالملک کے زمانہ میں ایسے شخص نے بتلائی جو عائشہ (رض) سے پوچھتا رہتا تھا کہ انھوں نے فرمایا اصبحت انا و حفصہ (رض) صائمتین “ پھر انھوں نے ربیع الجیزی کی طرح روایت بیان کی۔ یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے اس کے علاوہ دوسری سند سے مروی ہے۔
پس یہ روایت مجہول راوی کی وجہ سے ساقط اعتبار ہوگئی قابل استدلال نہ رہی اور دوسرے اعتبار سے موقوف ثابت ہوتی ہے تو موقوف روایت سے کیونکر استدلال درست ہوگا۔
u: وقدروی فی ذلک سے دیا گیا۔
اس روایت کو اس سند کے علاوہ دوسری سند سے نقل کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔