۳۴۱۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ أَخْبَرَ أَصْحَابَہٗ أَنَّہٗ صَائِمٌ ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْہِمْ وَرَأْسُہٗ یَقْطُرُ فَقَالُوْا : أَوْ لَمْ تَکُ صَائِمًا ؟ قَالَ (بَلَی وَلٰـکِنِّیْ مَرَّتْ جَارِیَۃٌ لِیْ فَأَعْجَبَتْنِیْ فَأَصَبْتُہَا وَکَانَتْ حَسَنَۃً ہَمَمْتُ بِہَا وَأَنَا قَاضِیْہَا یَوْمًا آخَرَ) .
٣٤١٢: سعید بن ابی الحسن نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے انھوں نے اپنے احباب کو بتلایا کہ ان کا روزہ ہے پھر گھر سے باہر تشریف لائے تو ان کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے انھوں نے کہا کیا آپ روزہ سے نہ تھے انھوں نے کہا کیوں نہیں لیکن میرے پاس سے میری لونڈی کا گزر ہوا تو وہ مجھے پسند آئی میں نے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کا قصد کیا اور قربت کرلی بقیہ میں اپنے روزے کی اور دن قضا کرلوں گا۔