۳۴۱۸ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا حَامِدُ بْنُ یَحْیٰی قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ سَعِیْدِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (لَا تُسَافِرَ الْمَرْأَۃُ إِلَّا وَمَعَہَا ذُو مَحْرَمٍ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْمَرْأَۃَ لَا تُسَافِرُ سَفَرًا قَرِیْبًا وَلاَ بَعِیْدًا إِلَّا مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ. وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : کُلُّ سَفَرٍ ہُوَ دُوْنَ الْبَرِیْدِ فَلَہَا أَنْ تُسَافِرَ بِلَا مَحْرَمٍ وَکُلُّ سَفَرٍ یَکُوْنُ بَرِیْدًا فَصَاعِدًا فَلَیْسَ لَہَا أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا بِمَحْرَمٍ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٤١٨: سعید بن ابی سعیدالمقبری نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی عورت اس وقت تک سفر نہ کرے جب تک اس کے ساتھ ذی رحم محرم نہ ہو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں۔ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عورت بلا محرم سفر نہ کرے خواہ وہ سفر قریب ہو یا دور ۔ ان کی مستدل یہ روایات ہیں مگر دوسرے حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عورت ایک برید کے برابر سفر محرم کرسکتی ہے اور ایک برید سے زیادہ سفر محرم کے بغیر درست نہیں ان کی دلیل ان روایات سے ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی عورت کو کسی حال میں دور یا نزدیک تھوڑا یا زیادہ سفر بلا محرم نہ کرنا چاہیے ان روایات میں ممانعت مطلق ہے پس بلامحرم عورت کو سفر میں نہ جانا چاہیے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
ایک برید سے کم سفر تو بلامحرم جائز ہے اس سے زائد جائز نہیں اس کو طحاوی نے خالفہم فی ذلک آخرون سے ذکر کیا ہے۔