hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3420

.

الطحاوي

3420
Al Tahawi
۳۴۲۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُہَیْلٍ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالُوْا : فَفِیْ تَوْقِیْتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْبَرِیْدَ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ مَا دُوْنَہُ بِخِلَافِہٖ۔وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : اِذَا کَانَ سَفَرٌ ہُوَ دُوْنَ الْیَوْمِ فَلَہَا أَنْ تُسَافِرَ بِلَا مَحْرَمٍ وَکُلُّ سَفَرٍ یَکُوْنُ یَوْمًا فَصَاعِدًا فَلَیْسَ لَہَا أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا بِمَحْرَمٍ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٤٢٠: معلی بن اسد کہتے ہیں کہ ہمیں عبدالعزیز بن المختار نے انھوں نے سہیل سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک برید کے فاصلہ کو مقرر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سے کم فاصلہ کا حکم اس کے خلاف ہے۔ مگر دوسرے حضرات نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایک دن سے کم سفر ہو تو عورت محرم کے بغیر بھی سفر کرسکتی ہے مگر ایک دن یا زیادہ کا سفر ہو تو محرم کے بغیر سفر نہیں کرسکتی ۔ انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔
حاصل روایات ایک برید سے کم سفر میں محرم کی ضرورت نہیں اس سے زائد سفر میں محرم ضروری ہے اس میعاد کو مقرر کرنا اس سے کم مقدار کو خارج اور بقیہ تمام کو داخل کرتا ہے۔
فریق ثالث کا مؤقف :
اگر سفر ایک دن رات سے کم ہو تو بلامحرم سفر درست ہے اس سے زائد ہو تو بلامحرم جائز نہیں آج کل کے فساد زمانہ کی وجہ سے متا ٔخرین احناف نے اسی پر فتویٰ دیا ہے اسی کو طحاوی (رح) نے خالفہم فی ذلک آخرون سے تعبیر کیا ہے۔ دلائل یہ روایات ہیں۔