۳۴۲۷ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالُوْا : فَفِیْ تَوْقِیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ لَیْلَتَیْنِ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ حُکْمَ مَا ہُوَ دُوْنَہُمَا بِخِلَافِ حُکْمِہِمَا وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : کُلُّ سَفَرٍ یَکُوْنُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَصَاعِدًا فَلَیْسَ لَہَا أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا مَعَ مَحْرَمٍ وَکُلُّ سَفَرٍ یَکُوْنُ دُوْنَ ذٰلِکَ فَلَہَا أَنْ تُسَافِرَ بِغَیْرِ مَحْرَمٍ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٤٢٧: علی بن معبد نے عبیداللہ بن عمرو سے انھوں نے عبدالملک سے پس انھوں نے اسی طرح اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دو کا وقت مقرر فرمایا اس سے یہ دلیل مل گئی کہ اس سے کم وقت کا سفر اور حکم رکھتا ہے۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ سفر جو تین ایام یا اس سے زیادہ کا سفر محرم کے بغیر نہیں کرسکتی اور اس سے کم مدت کا سفر وہ بلا محرم کرسکتی ہے اور انھوں نے اس روایت کو اپنا مستدل بنایا ہے۔
حاصل روایات : ان روایات میں د و راتوں کی تعیین اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے کم سفر ہو تو ذی رحم محرم کی حاجت نہیں اور اگر اتنا یا اس سے زیادہ ہو تو یہ جائز نہیں
فریق خامس کا مؤقف :
امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کے ہاں تین دن رات سے کم کی مسافت کے لیے سفر میں محرم کی ضرورت نہیں اس سے زائد کے لیے لازم ہے دلیل یہ روایات ہیں۔