۳۴۴۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا کَثِیْرُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ : ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ : سَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِیْنَارٍ عَنْ امْرَأَۃٍ حَاجَّۃٍ مَرَّتْ بِالْمَدِیْنَۃِ فَأَتَتْ (ذَا الْحُلَیْفَۃِ) وَہِیَ حَائِضٌ فَقَالَ لَہَا یُجْزِئُہَا لَوْ تَقَدَّمَتْ إِلَی الْجُحْفَۃِ فَأَحْرَمَتْ مِنْہَا فَقَالَ عَمْرٌو : نَعَمْ حَدَّثَنَا طَاوُسٌ وَلَا تَحْسَبَنَّ فِیْنَا أَحَدًا أَصْدَقَ لَہْجَۃً مِنْ طَاوٗسٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہُ إِلَّا أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ مِنْ قَوْلِہٖ (فَمَنْ کَانَ أَہْلُہٗ) إِلَی آخِرِ الْحَدِیْثِ قَالُوْا فَکَذٰلِکَ أَہْلُ الْعِرَاقِ مَا أَتَوْا عَلَیْہِ مِنْ ھٰذِہِ الْمَوَاقِیْتِ فَہُوَ وَقْتٌ لَہُمْ وَمَا سِوَاہَا فَلَیْسَ بِوَقْتٍ لَہُمْ وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا
٣٤٤٢: جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ اس عورت کا کیا حکم ہے جو ذوالحلیفہ سے گزرے تو وہ حج کا احرام باندھے یا نہیں تو انھوں نے کہا اس کو گزر جانا چاہیے اگر وہ جحفہ سے گزرے تو وہاں سے احرام باندھ لے عمرو کہنے لگے ہمیں طاؤس نے بیان کیا اور طاؤس سے زیادہ سچی بات والا کوئی نہیں وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میقات مقرر فرمائے پھر اسی طرح روایت نقل کی البتہ انھوں نے فمن کان اھلہ سے لیکر آخر تک جملہ نقل نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اہل عراق کا گزر ان مذکورہ مواقیت میں سے جس سے ہو تو وہی ان کی میقات ہوگی دوسری نہ ہوگی۔ اس سلسلہ میں یہ روایت بھی ذکر کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٩۔