hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3446

.

الطحاوي

3446
Al Tahawi
۳۴۴۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَہُ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ مِیْقَاتُ أَہْلِ الْعِرَاقِ ذَاتُ عِرْقٍ وَقَّتَ ذٰلِکَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا وَقَّتَ سَائِرَ الْمَوَاقِیْتِ لِأَہْلِہَا وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ مَا
٣٤٤٦: عبداللہ بن دینار نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا اہل عراق کا میقات نے ذات عرق ہے۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس کے لیے دیگر مواقیت کی طرح مقرر فرمایا ‘ روایات ذیل ملاحظہ ہوں۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق کے لیے کوئی میقات مقرر نہیں جس میقا ت پر ان کا گزر ہوگا وہی ان کا میقات ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
اہل عراق کے لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میقات مقرر فرمایا ہے جس طرح دیگر میقات مقرر فرمائے ہیں اور وہ ذات عرق ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔