۳۴۴۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْہَیْثَمِ قَالَ : أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ : وَأَخْبَرَنِیْ أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ سَمِعَہٗ یَسْأَلُ عَنِ الْمُہَلِّ فَقَالَ : سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَہٰی أَرَاہُ یُرِیْدُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (یُہِلُّ أَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ وَالطَّرِیْقُ الْآخَرُ مِنَ الْجُحْفَۃِ وَیُہِلُّ أَہْلُ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَیُہِلُّ أَہْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَیُہِلُّ أَہْلُ الْیَمَنِ مِنْ یَلَمْلَمَ)
٣٤٤٨: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی کہ انھوں نے سنا کہ احرام باندھنے والے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے سنا پھر آخر تک روایت بیان کی میرا خیال ہے کہ اس سے مراد جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے کہ اہل مدینہ ذوالحلیفہ اور دوسرے راستے سے جائیں تو جحفہ اور اہل عراق ذات طرق سے احرام باندھیں اور اہل نجد قرن سے اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔