۳۴۵۰ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ وَعَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَا : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَخْبَرَنِی اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سُوَیْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ ہِلَالُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّہٗ سَمِعَ (رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ وَلِأَہْلِ الْبَصْرَۃِ ذَاتَ عِرْقٍ وَلِأَہْلِ الْمَدَائِنِ الْعَقِیْقَ مَوْضِعٌ قُرْبَ ذَاتِ عِرْقٍ) فَقَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ مِنْ وَقْتِ أَہْلِ الْعِرَاقِ کَمَا ثَبَتَ مِنْ وَقْتِ مَنْ سِوَاہُمْ بِالْآثَارِ الَّتِیْ قَبْلَہَا .وَھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَقَدْ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ تَوْقِیْتِہِ مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الَّذِیْ قَبْلَ ھٰذَا ثُمَّ قَدْ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ بَعْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٤٥٠: ہلال بن زید کہتے ہیں کہ مجھے انس بن مالک نے بتلایا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل بصرہ کے لیے ذات عرق اور اہل مدائن کے لیے عقیق (یہ ذات عرق کے قریب جگہ ہے) کو میقات مقرر فرمایا۔ ان روایات سے اہل عراق کے لیے بھی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے میقات کا مقرر ہونا دیگر مواقیت کی طرح ثابت ہوگیا ۔ یہ ابن عمر (رض) ہیں۔ جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اہل عراق کیلئے مقررہ میقات کا ذکر فرما رہے ہیں اور آپ کے بعد وہ نقل کر رہے ہیں۔
حاصل روایات : ان روایات سے اہل عراق کے لیے ذات عرق کا میقات ثابت ہوگیا جیسا کہ دیگر مواقیت ثابت ہیں۔
ابن عمر (رض) والی روایت : اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ ابن عمر (رض) خود ذات عرق کو اہل عراق کا میقات تسلیم کر رہے ہیں جیسا کہ اس روایت میں موجود ہے۔