hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3455

.

الطحاوي

3455
Al Tahawi
۳۴۵۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی بِذِی الْحُلَیْفَۃِ ثُمَّ أُتِیَ بِرَاحِلَتِہٖ فَرَکِبَہَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِہٖ عَلَی الْبَیْدَائِ أَہَلَّ) .
٣٤٥٥: ابو حسان نے ابن عباس (رض) سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذوالحلیفہ میں نماز ادا فرمائی پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے جب وہ بیداء مقام پر چڑھ گئی تو آپ نے تلبیہ کہا۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٢٣‘ ٢٤‘ والجہاد باب ٥٣‘ مسلم فی الحج ٢٠؍٢١‘ ابو داؤد فی المناسک باب ١٤؍٢١‘ نسائی فی المناسک باب ٥٤؍٥٦‘ دارمی فی المناسک باب ٨٢‘ مالک فی الحج ٢٩؍٣٣‘ مسند احمد ١؍٢٦٠‘ ٢؍١٨‘ ٣؍٣٢٠۔

احرام میقات یا اس سے پہلے گھر سے باندھ لیا جائے بلا کراہت درست ہے اس کو امام ابوحنیفہ (رح) و شافعی (رح) نے اختیار کیا مگر امام مالک کے ہاں میقات پر احرام افضل ہے اہل مدینہ کا میقات بالاتفاق ذوالحلیفہ ہے مگر اس میں کون سی جگہ افضل ہے امام عطاء و اوزاعی رحمہم اللہ جبل بیداء پر احرام باندھنے کو افضل گنتے ہیں۔
نمبر 2: امام ابوحنیفہ (رح) و احمد (رح) اور مالک (رح) و شافعی (رح) کے ہاں مسجد ذوالحلیفہ سے احرام افضل ہے۔
نمبر 3: امام مالک (رح) و شافعی (رح) کا قول ثانی یہ ہے کہ اونٹنی پر سوار ہو کر احرام افضل ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل :
جبل بیداء سے احرام باندھنا افضل ہے جیسا کہ آپ نے سواری پر سوار ہو کر جبل بیداء پر چڑھ کر احرام باندھا۔ ذہب قوم الی ہذا سے اس قول کی طرف اشارہ ہے۔