hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3457

.

الطحاوي

3457
Al Tahawi
۳۴۵۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَمْرٍو وَہُوَ الْأَوْزَاعِیُّ عَنْ عَطَائٍ ہُوَ ابْنُ أَبِیْ رَبَاحٍ أَنَّہٗ سَمِعَہٗ یُحَدِّثُ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَعْنِیْ سَمِعَہٗ یُخْبِرُ عَنْ (إہْلَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ حِیْنَ اسْتَوَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہٗ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا فَاسْتَحَبُّوا الْاِحْرَامَ مِنَ الْبَیْدَائِ لِاِحْرَامِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہَا وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ مِنْہَا لَا لِأَنَّہٗ قَصَدَ أَنْ یَّکُوْنَ إِحْرَامُہٗ مِنْہَا خَاصَّۃً لِفَضْلٍ فِی الْاِحْرَامِ مِنْہَا عَلَی الْاِحْرَامِ مِمَّا سِوَاہَا وَقَدْ رَأَیْنَاہُ فَعَلَ أَشْیَائَ فِیْ حَجَّتِہٖ فِیْ مَوَاضِعَ لَا لِفَضْلٍ قَصَدَہٗ فِیْ تِلْکَ الْمَوَاضِعِ مِمَّا یَفْضُلُ بِہٖ غَیْرُہَا مِنْ سَائِرِ الْمَوَاضِعِ مِنْ ذٰلِکَ نُزُوْلُہٗ بِالْمُحَصَّبِ مِنْ مِنًی فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ سُنَّۃٌ وَلٰکِنَّہٗ لِمَعْنًی آخَرَ قَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِیْہِ مَا ہُوَ ؟ فَرُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٤٥٧: عطاء بن ابی رباح نے جابر (رض) سے نقل کیا کہ وہ ذوالحلیفہ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تلبیہ کو بیان کر رہے تھے کہ جب آپ اونٹنی پر درست ہو کر بیٹھ گئے۔ حضرت امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مقام بیداء میں احرام باندھنے کو پسند کرتے ہیں کیونکہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہیں سے احرام باندھا۔ مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ۔ کہ یہ عین ممکن ہے۔ کہ آپ نے احرام اس نیت سے نہ باندھا ہوا کہ وہاں سے احرام باندھنا دوسرے مقامات سے زیادہ افضل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے حج میں بعض مقامات پر بعض امور انجام دیے مگر ان کا مقصد یہ نہ تھا کہ وہ مقامات دوسرے مقامات سے افضل ہیں ان میں ایک منی کی وادی محصب میں اترنا بھی ہے۔ لوگوں نے اس کی حقیقت کے متعلق مختلف کلام کیا ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام بیداء پر تلبیہ کہا ہے اس لیے وہاں سے احرام کے لیے تلبیہ کہنا افضل ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل :
مسجد ذوالحلیفہ سے احرام افضل ہے نوافل پڑھنے کے فوراً بعد تلبیہ کہے۔ خالفہم فی ذلک سے اسی طرف اشارہ ہے۔
فریق اوّل کی دلیل کا جواب :
مقام بیداء پر تشریف لے جا کر آپ نے اگر احرام باندھا بھی ہے تو اس بنا پر نہیں کہ وہ احرام کی افضل جگہ ہے بلکہ اس کی مصلحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بلند مقام سے زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کے احرام اور تلبیہ کو دیکھ سکیں اس کی بہت سی نظیریں افعال حج میں ملتی ہیں مثلاً طواف زیارت کے لیے جب آپ منیٰ سے مکہ تشریف لائے تو آپ نے بطن محصب میں نزول اجلال فرمایا تاکہ طواف زیارت کے لیے سامان کو ہلکا کرلیا جائے۔ چنانچہ ابو رافع کو آپ نے خیمہ لگانے کا حکم دیا تو انھوں نے بطن محصب میں خیمہ لگا دیا چنانچہ آپ وہیں اتر پڑے تو جس طرح وادی محصب میں اترنا اس بناء پر نہیں تھا کہ یہاں اترنا مسنون ہے بلکہ دوسری مصلحت کی خاطر تھا بالکل اسی طرح مقام بیداء پر تلبیہ کی بھی اور مصلحت تھی نہ کہ افضلیت۔ جیسا کہ یہ روایات اس کو ثابت کرتی ہیں۔