hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3462

.

الطحاوي

3462
Al Tahawi
۳۴۶۲ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ (لَیْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَیْئٍ إِنَّمَا ہُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) فَلَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ حَصَّبَ وَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ التَّحْصِیْبُ لِأَنَّہٗ سُنَّۃٌ فَکَذٰلِکَ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ أَحْرَمَ حِیْنَ صَارَ عَلَی الْبَیْدَائِ لَا لِأَنَّ ذٰلِکَ سُنَّۃٌ وَقَدْ أَنْکَرَ قَوْمٌ أَنْ یَّکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ مِنَ الْبَیْدَائِ وَقَالُوْا : مَا أَحْرَمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ وَرَوَوْا ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٣٤٦٢: عطاء نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ محصب میں اترنا کوئی ثواب کی چیز نہیں یہ اترنے کی جگہ ہے جہاں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول اجلال فرمایا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی محصب میں قیام فرمایا اور یہ قیام محصب اس کے سنت ہونے کی بناء پر نہ تھا۔ پس اسی طرح جائز ہے کہ آپ نے بیداء میں پہنچ کر احرام باندھا ہو۔ دیگر جماعت علماء نے مقام بیداء کے احرام کا انکار کیا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ آپ نے مسجد کے پاس سے احرام باندھا اور حضرت ابن عمر (رض) سے انھوں نے اسے روایت کیا ہے۔ روایت ذیل میں ہے۔
حاصل روایت : جب آپ کا محصب میں اترنا خود محصب کے اترنے کی سنیت کے لیے نہ تھا پس اسی طرح درست ہے کہ آپ نے احرام اس وقت باندھا جبکہ بیداء پر چڑھے اس وجہ سے نہیں کہ وہ مسنون تھا۔
فریق ثانی کی مزید دلیل :
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد ذوالحلیفہ سے احرام باندھا۔ وقد انکر قوم سے انہی کی طرف اشارہ ہے۔ دلیل یہ روایت ہے۔