hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3474

.

الطحاوي

3474
Al Tahawi
۳۴۷۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیْ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : (کَانَتْ تَلْبِیَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَک لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَک) ۔
٣٤٧٤: عبدالرحمن بن یزید نے عبداللہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تلبیہ یہ تھا ” لبیک اللہم لبیک ‘ لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک “
تخریج : بخاری فی الحج باب ٢٦‘ مسلم فی الحج نمبر ١٤٧‘ ٢٦٩‘ ٢٧١‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٢٢‘ ترمذی فی الحج باب ٩٧‘ نسائی فی المناسک باب ٥٤‘ ٦٠‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ١٥‘ ٨٤‘ دارمی فی المناسک باب ١٣‘ ١٥‘ مسند احمد ١؍٣٠٢‘ ٣٧٤‘ ٢؍٣‘ ٧٦‘ ٥؍١٩١‘ ٦؍٣٦٠۔
تلبیہ کو امام ابوحنیفہ (رح) نے شرط و فرض احرام قرار دیا اور امام مالک نے واجب کہا جبکہ شافعی (رح) و احمد (رح) نے سنت قرار دیا اور اہل ظواہر نے رکن حج قرار دیا ہے۔ ! الفاظ تلبیہ میں امام ابوحنیفہ ‘ شافعی و احمد رحمہم اللہ کے ہاں تعظیم باری کے الفاظ سے اضافہ درست ہے۔
نمبر 2: امام مالک و ابو یوسف و طحاوی رحمہم اللہ ان منصوص الفاظ پر اضافے کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف :
تلبیہ کے الفاظ پر تعظیم باری تعالیٰ کے الفاظ سے اضافہ درست ہے اس قول کی نسبت امام طحاوی (رح) امام محمد (رح) اور ثور (رح) و اوزاعی (رح) کی طرف درست مانتے ہیں۔