۳۴۷۹ : حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا شَرْقِیُّ بْنُ قَطَامِیٍّ قَالَ : أَنَا أَبُوْ طَلْقٍ الْعَائِذِیُّ قَالَ : سَمِعْتُ شُرَحْبِیْلَ بْنَ الْقَعْقَاعِ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَعْدِ یَکْرِبَ یَقُوْلُ : لَقَدْ رَأَیْتُنَا مُنْذُ قَرِیْبٍ وَنَحْنُ اِذَا حَجَجْنَا نَقُوْلُ : لَبَّیْکَ تَعْظِیْمًا إِلَیْکَ عُذْرًا ہَذِی زَبِیْدُ قَدْ أَتَتْکَ قَسْرًا تَغْدُوْا بِہِمْ مُضْمَرَاتٌ شَزَرًا یَقْطَعْنَ حِیْنًا وَحَیَالًا وَعْرَا قَدْ خَلَّفُوا الْأَنْدَادَ خِلْوًا صِفْرَا وَنَحْنُ الْیَوْمَ نَقُوْلُ کَمَا عَلَّمْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قَالَ : قُلْت کَیْفَ عَلَّمَکُمْ ؟ فَذَکَرَ التَّلْبِیَۃَ عَلَی مِثْلِ مَا فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ قَبْلَ ھٰذَا .فَأَجْمَعَ الْمُسْلِمُوْنَ جَمِیْعًا عَلٰی أَنَّہٗ ہٰکَذَا یُلَبَّیْ بِالْحَجِّ غَیْرَ أَنَّ قَوْمًا قَالُوْا : لَا بَأْسَ لِلرَّجُلِ أَنْ یَزِیْدَ فِیْہَا مِنَ الذِّکْرِ لِلّٰہِ مَا أَحَبَّ وَہُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ وَالثَّوْرِیِّ وَالْأَوْزَاعِیِّ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٤٧٩: ابو طلق عائذی کہتے ہیں کہ میں نے شرحبیل بن قعقاع سے کہتے سنا کہ میں نے عمرو بن معدیکرب کو کہتے سنا کہ زمانہ قریب (جاہلیت) میں جب ہم حج کرتے تو اس طرح کہتے۔ !: ہم تیری عظمت کے لیے تیری دعوت بار بار قبول کرتے ہیں اور یہ قبیلہ زبید تیری بارگاہ میں مجبور ہو کر حاضر ہوا ہے۔ ": ان کو پتلی کمر والے گھوڑے سختی کے ساتھ ان کو صبح سویرے لے کر چلے ہیں وہ گھوڑے ہلاکتوں اور دشوار گزار گھاٹیوں کو طے کرنے والے ہیں۔#: انھوں نے اپنے معبودوں کو بالکل خالی چھوڑ دیا ہے۔ اب ہم وہی کہتے ہیں جو ہمیں سکھایا گیا ہے۔ شرحبیل کہتے ہیں کہ میں نے کہا کس طرح تم کو سکھایا چنانچہ انھوں نے اس طرح بیان کیا جس طرح حدیث میں آیا ہے مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ حج کا تلبیہ اسی طرح کہتے تھے۔ البتہ بعض لوگوں نے کہا کہ آدمی کے لیے کچھ حرج نہیں کہ اس میں ذکر کے کچھ الفاظ کا اضافہ کرے جو اسے پسند ہوں یہ امام محمد ‘ ثوری ‘ اوزاعی رحمہم اللہ کا قول ہے اور انھوں نے مندرجہ روایت سے استدلال کیا۔