hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3491

.

الطحاوي

3491
Al Tahawi
۳۴۹۲ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ وَمَنْصُوْرٌ وَابْنُ أَبِیْ لَیْلٰی عَنْ عَطَائٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ (أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ أَحْرَمْتُ وَعَلَیَّ جُبَّتِی ھٰذِہِ وَعَلَی جُبَّتِہِ رَدُوعٌ مِنْ خَلُوْقٍ وَالنَّاسُ یَسْخَرُوْنَ مِنِّیْ فَأَطْرَقَ عَنْہُ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ اخْلَعْ عَنْکَ ھٰذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ ھٰذَا الزَّعْفَرَانَ وَاصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِک مَا کُنْتُ صَانِعًا فِیْ حَجَّتِک) فَبَیَّنَتْ لَنَا ھٰذِہِ الْآثَارُ أَنَّ ذٰلِکَ الطِّیْبَ الَّذِیْ أَمَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِغَسْلِہِ کَانَ خَلُوْقًا وَذٰلِکَ مَنْہِیٌّ عَنْہُ فِیْ حَالِ الْاِحْلَالِ وَحَالِ الْاِحْرَامِ فَیَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَادَ بِأَمْرِہِ إِیَّاہُ بِغَسْلِہِ لَمَا کَانَ مِنْ نَہْیِہِ أَنْ یَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ لَا لِأَنَّہٗ طِیْبٌ تَطَیَّبَ بِہٖ قَبْلَ الْاِحْرَامِ ثُمَّ حَرَّمَہٗ عَلَیْہِ الْاِحْرَامُ .فَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَہْیِہِ الرِّجَالَ عَنِ التَّزَعْفُرِ۔
٣٤٩٢: عطاء نے یعلیٰ بن امیہ سے نقل کیا کہ ایک شخص جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے احرام باندھنا ہے اور میں نے یہ جبہ پہن رکھا ہے اور میرا جبہ زعفران سے لت پت ہے اور لوگ مجھ سے تمسخر کرتے ہیں آپ نے اس سے تھوڑی دیر کے لیے سر جھکایا پھر فرمایا اپنے جبہ کو اتار دو اور اپنے سے یہ زعفران دھو ڈالو اور اپنے عمرہ میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو (یعنی احرام ‘ طواف ‘ سعی) ہمیں ان آثار نے واضح کردیا کہ وہ خوشبو جس کو دھونے کا حکم فرمایا وہ خلوق تھی ۔ یہ خوشبو تو احرام اور غیر احرام ہر دو حالت میں ممنوع ہے۔ تو یہ عین ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دھونے کا حکم اس لیے دیا ہو کہ مرد کو زعفران لگانے کی ممانعت فرمائی ہے۔ اس بناء پر نہیں کہ یہ وہ خوشبو تھی جو احرام سے پہلے لگائی جاتی ہے پھر احرام نے اس کو ناجائز بنادیا ۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کو لگانے سے اس طرح منع فرمایا جیسا مندرجہ روایات میں ہے۔
حاصل روایات : ردعہ۔ زعفران میں لت پت ہونا۔
تخریج : بخاری فی العمرہ باب ٥٠‘ مسند احمد ٤؍٢٢٤‘ مسلم فی الحج ٦‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٣٠‘ نسائی فی الحج باب ٥٠۔
حاصل رویا ات : ان روایات سے ثابت ہوا کہ جس خوشبو کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دھونے کا حکم دیا وہ خلوق تھی اور خلوق کو احرام کے بغیر بھی استعمال کرنا جائز نہیں احرام میں کیونکر جائز ہوتا۔
دوسرا جواب : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دھونے کا اس لیے حکم فرمایا کیونکہ آپ نے مردوں کو زعفران کا رنگ لگانے سے منع فرمایا ہے اس وجہ سے نہیں کہ وہ خوشبو ہے جس کو بطور خوشبو استعمال کریں تو بلا احرام جائز ہے بلکہ مردوں کو اس کا استعمال بلا احرام بھی درست نہیں پس دھونے کا حکم زعفرانی رنگ میں لت پت ہونے کی وجہ سے تھا اس وجہ سے نہیں کہ وہ خوشبو ہے جس کا احرام کے وقت لگانا درست نہ ہو مندرجہ ذیل روایات مرد کے لیے زعفران میں لت پت ہونے کا ثبوت ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔