hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3549

.

الطحاوي

3549
Al Tahawi
۳۵۴۹ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ وَأَبُوْ صَالِحٍ کَاتِبُ اللَّیْثِ قَالَا : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَا تَلْبَسُوْا ثَوْبًا مَسَّہٗ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ) یَعْنِیْ فِی الْاِحْرَامِ .
٣٥٤٩: سالم نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا احرام میں اس کپڑے کو مت استعمال کرو جس کو ورس و زعفران نے چھوا ہو۔
تخریج : بخاری فی العلم باب ٥٣‘ والصلاۃ باب ٩‘ الحج باب ٢١‘ ٢٣‘ واللباس باب ١٣‘ ١٤‘ ١٥٠‘ مسلم فی الحج ١‘ ٢‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٣١‘ ترمذی فی الحج باب ١٨‘ نسائی فی المناسک باب ٢٨؍٣٠‘ ٣١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ١٩‘ دارمی فی المناسک باب ٩‘ موطا مالک ٨‘ مسند احمد ٢؍٨٠٤‘ ٥٤‘ ٥٦‘ ٥٩‘ ٦٣‘ ٦٥‘ ٧٧۔
نمبر 1: عروہ اور مجاہد رحمہم اللہ اور ابن حزم (رح) کے ہاں ورس و زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کا استعمال مطلقاً ناجائز ہے۔
نمبر 2: ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے ہاں اگر اس کپڑے کو دھو کر صاف کرلیا تو محرم کو بلاکراہت پہننا جائز اور درست ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : ورس و زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کا استعمال محرم کے لیے خواہ اس کو دھو لیا جائے تب بھی جائز نہیں ہے۔ جیسا ان روایات سے ثابت ہوتا ہے۔