۳۵۷۱ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ قَالَ : اجْتَمَعَ عَلِیٌّ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا بِ (عُسْفَانَ) وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَنْہَیْ عَنِ الْمُتْعَۃِ فَقَالَ لَہٗ عَلِیٌّ : مَا تُرِیْدُ إِلٰی أَمْرٍ قَدْ فَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَنْہٰی عَنْہُ فَقَالَ : دَعْنَا مِنْک‘ فَقَالَ : إِنِّیْ لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أَدَعَک‘ ثُمَّ أَہَلَّ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِہِمَا جَمِیْعًا۔
٣٥٧١: سعید بن المسیب روایت کرتے ہیں کہ علی و عثمان (رض) مقام عسفان میں جمع ہوئے جبکہ عثمان (رض) حج تمتع سے روک رہے تھے تو علی (رض) نے ان سے کہا تمہارا اس بات سے منع کرنے کا کیا مقصد ہے جس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود کیا تو انھوں نے کہا تم ہمیں مت کچھ کہو تو علی (رض) نے کہا میں تمہیں اس حالت میں چھوڑ نہیں سکتا پھر علی (رض) نے دونوں کا اکٹھا احرام باندھا۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٣٤۔