۳۵۸۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ ہُوَ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ سَالِمٍ قَالَ (إِنِّیْ لَجَالِسٌ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی الْمَسْجِدِ اِذْ جَائَ ہٗ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ‘ فَسَأَلَہٗ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ) فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ (حَسَنٌ جَمِیْلٌ) فَقَالَ : فَإِنَّ أَبَاک کَانَ یَنْہٰی عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ (وَیْلَکَ‘ فَإِنْ کَانَ أَبِیْ قَدْ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ‘ وَقَدْ فَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَأَمَرَ بِہٖ، فَبِقَوْلِ أَبِیْ تَأْخُذُ‘ أَمْ بِأَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟) قَالَ : بِأَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَقَالَ (قُمْ عَنِّیْ) ۔
٣٥٨٢: زہری نے سالم سے روایت کی ہے کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا جبکہ ان کے پاس ایک شامی آدمی آیا اور ان سے حج تمتع کے متعلق سوال کیا تو ابن عمر (رض) نے فرمایا۔ بہت خوب اور عمدہ ہے اس نے کہا تمہارے والد تو اس سے منع کرتے تھے۔ تو انھوں نے کہا تم پر افسوس ! اگر بالفرض میرے والد نے منع کیا ہو اور ادھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کیا ہو تو تو کس کی بات کو لے گا۔ اس نے کہا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو اختیار کروں گا اس پر ابن عمر (رض) نے فرمایا بس یہاں سے چلے جاؤ!
تخریج : ترمذی فی الحج باب ١٢۔