hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3602

.

الطحاوي

3602
Al Tahawi
۳۶۰۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ فَأَخْبَرَ عُمَرُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ أَتَاہُ آتٍ مِنْ رَبِّہٖ فَقَالَ لَہٗ قُلْ (عُمْرَۃٌ فِیْ حَجَّۃٍ) فَلَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ أَمِرَ أَنْ یَجْعَلَ عُمْرَۃً فِیْ حَجَّۃِ‘ اسْتَحَالَ أَنْ یَّکُوْنَ مَا فَعَلَ خِلَافًا لِمَا أَمَرَ بِہِ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ وَکَیْفَ یَجُوْزُ أَنْ یُنْقَلَ ھٰذَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَقَدْ نَہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ ؟ وَقَدْ ذَکَرْتُمْ ذٰلِکَ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثٍ مَالِکٍ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ؟ وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٣٦٠٢: علی بن المبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ تو اس روایت میں حضرت عمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے آپ سے کہا کہ آپ کہہ دیں ” عمرۃ فی حجۃ ‘ ‘ کہ عمرہ حج میں داخل ہے پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے ساتھ عمرے کو ملانے کا حکم دیا گیا تو یہ ناممکن ہے کہ آپ اس کے خلاف کریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ حضرت عمر (رض) سے یہ بات کیسے منقول ہوسکتی ہے جب کہ آپ نے تمتع سے منع فرمایا ؟ اور تم یہ بات ان سے مالک والی روایت میں ذکر کی ہے اور انھوں نے اس سلسلہ میں یہ روایات بھی ذکر کی ہیں۔
اس روایت میں عمر (رض) نے بتلایا کہ وادی عقیق میں آپ کو فرشتہ نے خواب میں آ کر کہا کہ تم کہو کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حج کے ساتھ عمرے کا حکم فرمایا گیا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی خلاف ورزی فرمائیں۔
ایک اشکال :
اس روایت کا عمر (رض) سے نقل ہونا ممکن نہیں۔ حالانکہ انھوں نے متعہ سے روک دیا اور مالک عن زہری عن محمد بن عبداللہ کی روایت گزری کہ عمر (رض) ان سے روکتے تھے اور یہ روایت بھی موجود ہے۔