۳۶۱۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ‘ عَنْ کَثِیْرِ بْنِ جُمْہَانِ‘ قَالَ (حَجَجْنَا وَفِیْنَا رَجُلٌ أَعْجَمِیٌّ‘ فَلَبّٰی بِالْعُمْرَۃِ وَالْحَجِّ‘ فَعِبْنَا ذٰلِکَ عَلَیْہِ فَسَأَلَنَا ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَقُلْنَا : إِنَّ رَجُلًا مِنَّا لَبَّیْ بِالْعُمْرَۃِ وَالْحَجِّ فَمَا کَفَّارَتُہٗ؟ قَالَ رَجَعَ بِأَجْرَیْنِ‘ وَتَرْجِعُوْنَ بِأَجْرٍ وَاحِدٍ)
٣٦١٣: عطاء بن سائب نے کثیربن جمہان سے نقل کیا کہ ہم نے حج کیا اور ہم میں ایک غیر فصیح آدمی تھا اس نے حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ کہا ہم نے اسے عار دلائی پھر ہم نے جناب ابن عمر (رض) سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے ہمارے قافلہ میں حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ کہا ہے اس پر کیا کفارہ لازم ہوگا ؟ انھوں نے فرمایا اس کو دو اجر ملیں گے اور تم ایک اجر لے کر لوٹو گے۔