۳۶۳ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ الدُّؤَلِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ ، أَنَّہٗ دَخَلَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَوْمًا فِیْ بَیْتِ مَیْمُوْنَۃَ ، فَضَرَبَ عَلٰی یَدِی وَقَالَ : ( عَجِبْتُ مِنْ نَاسٍ یَتَوَضَّئُوْنَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ، وَاللّٰہِ لَقَدْ (جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ یَوْمًا ثِیَابَہٗ ، ثُمَّ أُتِیَ بِثَرِیْدٍ ، فَأَکَلَ مِنْہَا ، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ إِلَی الصَّلَاۃِ ، وَلَمْ یَتَوَضَّأْ).
٣٦٣: محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے کے ہاں گیا جبکہ وہ حضرت ام المؤمنین میمونہ (رض) کے ہاں تھے انھوں نے میرے دونوں ہاتھوں پر ہاتھ مارا اور کہنے لگے مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو آگ سے پکی چیز (کھا لینے) پر وضو کرتے ہیں اللہ کی قسم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن تیاری فرمائی پھر آپ کے لیے ثرید لایا گیا آپ نے اس میں سے کھایا پھر آپ نماز کے لیے نکل کر تشریف لائے اور وضو نہ کیا۔
تخریج : ١٠؍٣٢٤ معجم الکبیر