۳۶۳۷ : حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوْسَی وَابْنُ نُفَیْلٍ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ خَیْثَمَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ‘ عَنْ أَبِیْ أَسْمَائَ ‘ عَنْ (أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجَّۃِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَہَا عُمْرَۃً وَقَالَ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِیْ مَا اسْتَدْبَرْتُ‘ لَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً‘ وَلٰـکِنِّیْ سُقْتُ الْہَدْیَ‘ وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ‘ فَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی صِحَّۃِ قَوْلِ مَنْ أَخْبَرَ مَنْ فَعَلَہٗ بِمَا یُوَافِقُ ذٰلِکَ۔
٣٦٣٧: ابو اسماء نے انس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ہم (مدینہ سے) نکلے اور ہم صرف حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے جب ہم مکہ پہنچے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو عمرہ بنانے کا حکم دیا اور فرمایا۔ اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہوتا جو اب مجھے معلوم ہوئی (کہ تم سب پریشان ہو گے) تو میں بھی اس کو عمرہ بنا لیتا لیکن میں نے ہدی روانہ کی ہے اور حج وعمرہ کو جمع کرلیا ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے کہ آپ نے حج وعمرہ ملا کر کیا اس سے اس بات کی صحت کی دلالت مل گئی جنہوں نے اس کے موافق قول کیا ہے۔
حاصل روایات : ان روایات اور خصوصاً اس آخری روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج وعمرہ ملا لیا تھا اس سے ان لوگوں کے قول کی تصدیق ہوتی ہے جو آپ کے حج کو حج قران مانتے ہیں۔