۳۶۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ أَبِیْ عَوْنٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ شَدَّادٍ یَقُوْلُ : سَأَلَ مَرْوَانُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنِ الْوُضُوْئِ مِمَّا غَیَّرَتِ النَّارُ ، فَأَمَرَہُ بِہٖ ثُمَّ قَالَ : ( کَیْفَ نَسْأَلُ أَحَدًا ، وَفِیْنَا أَزَوَاجُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ).فَأَرْسَلُوْا إِلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوْہَا ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ .
٣٦٦: ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن شداد کو کہتے سنا کہ مروان نے ابوہریرہ (رض) سے پوچھا جس کو آگے نے پکایا ہو (اس کے استعمال سے) وضو کا کیا حکم ہے ؟ تو انھوں نے وضو کا حکم دیا پھر مروان کہنے لگے ہم اور کسی سے کیوں پوچھیں ؟ جبکہ ہم میں ازواج مطہرات موجود ہوں چنانچہ سب نے بالاتفاق حضرت امّ سلمہ (رض) کی طرف پیغام بھیج کر ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا پھر انھوں شعبہ جیسی روایت بالا نقل کی۔
تخریج : مسند احمد ٦؍٣٠٦