hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3660

.

الطحاوي

3660
Al Tahawi
۳۶۶۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَشِیْشٍ الْبَصْرِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ وَشُعْبَۃُ‘ قَالَا : ثَنَا قَتَادَۃُ‘ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا سَاقَ بَدَنَۃً لِمُتْعَۃٍ أَوْ قِرَانٍ أَنَّ لَہٗ أَنْ یَرْکَبَہَا‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : إِنَّمَا کَانَ ھٰذَا مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِضُرٍّ رَآہٗ مِنَ الرَّجُلِ‘ فَأَمَرَہٗ بِمَا أَمَرَہٗ بِہِ لِذٰلِکَ وَہٰکَذَا نَقُوْلُ نَحْنُ : لَا بَأْسَ بِرُکُوْبِہَا فِیْ حَالِ الضَّرُوْرَۃِ‘ وَلَا یَجُوْزُ فِیْ حَالِ الْوُجُوْدِ فَاحْتَمَلَ أَنْ یَّکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذٰلِکَ لِلضَّرُوْرَۃِ کَمَا قَالُوْا‘ وَاحْتَمَلَ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ لَا لِلضَّرُوْرَۃِ‘ وَلٰـکِنْ لِأَنَّ حُکْمَ الْبُدْنِ کُلِّہَا کَذٰلِکَ‘ تُرْکَبُ فِیْ حَالِ الضَّرُوْرَۃِ‘ وَفِیْ حَالِ الْوُجُوْدِ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ‘
٣٦٦٠: ہشام شعبہ دونوں نے قتادہ سے انھوں نے انس (رض) سے روایت نقل کی ہے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام طحاوی کہتے ہیں کہ جب ایک آدمی تمتع یا قران کی ھدی روانہ کرے تو وہ اس پر سواری کرسکتا ہے اس قول کو علماء کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔ اور انھوں نے اس سلسلہ میں ان آثار کو بطور دلیل کے پیش کیا۔ اور دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا یہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس آدمی کی شدید حاجت کو دیکھ کر خاص اجازت تھی اور اس کو یہ حکم دیا اور ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کہ ضرورت کے وقت اس پر سواری کرنے میں کچھ حرج نہیں مگر دوسری سواری کی موجودگی میں یہ درست نہیں ہے پس اس روایت میں یہ احتمال پیدا ہوگیا کہ یہ حکم آپ نے ضرورت کے پیش نظر دیا جیسا کہ دوسرے قول والوں نے کہا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ضرورت کی وجہ سے نہ ہو ۔ لیکن تمام ہدیا کے جانوروں کا حکم ہے کہ ضرورت کے وقت ان پر سواری کی جاسکتی ہے۔ پس اب ہم اس میں غور کرتے ہیں۔
ان روایات میں ہدی پر سواری کا آپ حکم فرما رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سوار ہونے میں کوئی حرج نہیں خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو۔
فریق ثانی کا مؤقف :
ہدی کے جانور پر سواری بلاضرورت ناجائز ہے ضرورت شدیدہ ہو تو تب جائز ہے۔ اور اگر سوار ہونے سے جانور کو نقصان ہوا تو اس کا ضمان لازم ہوگا۔
سابقہ مؤقف کا جواب :
ان روایات میں جس شخص کو آپ نے سواری کا حکم دیا وہ ضرورۃً ہے۔ ضرورت کو عام قانون کے طور پر استعمال نہیں کرسکتے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ضرورت کی خاطر نہ ہو۔ اب اس کے لیے روایات پر نظر ڈالتے ہیں کہ وہ کس جانب کی تصدیق کرتی ہیں۔