۳۶۶۲ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ‘ وَالنُّفَیْلِیُّ‘ قَالَا : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیْلُ‘ عَنْ ثَابِتٍ‘ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأٰی رَجُلًا یَسُوْقُ بَدَنَۃً‘ فَکَأَنَّہٗ رَأٰی بِہٖ جَہْدًا فَقَالَ ارْکَبْہَا فَقَالَ : إِنَّہَا بَدَنَۃٌ‘ قَالَ ارْکَبْہَا‘ وَإِنْ کَانَتْ بَدَنَۃً) وَقَدْ رُوِیَ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا حَرْفٌ یَدُلُّ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنٰی أَیْضًا۔
٣٦٦٢: ثابت نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ہدی کا جانور ہانک رہا ہے آپ نے اس آدمی کو سخت مشقت میں پایا۔ تو اسے فرمایا سوار ہوجاؤ۔ اس نے کہا وہ ہدی کا جانور ہے۔ آپ نے فرمایا سوار ہوجاؤ۔ اگرچہ وہ ہدی کا جانور ہے۔ اور حدیث ابن عمر (رض) ایسے الفاظ موجود ہیں جو اسی مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ روایت ابن عمر (رض) ملاحظہ ہو۔