hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3675

.

الطحاوي

3675
Al Tahawi
۳۶۷۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ‘ عَنِ ابْنِ سِیْلَانَ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا فَقَالُوْا : الْکَلْبُ الْعَقُوْرُ الَّذِیْ أَبَاحَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَتْلَہٗ، ہُوَ الْأَسَدُ‘ وَکُلُّ سَبُعٍ عَقُوْرٍ‘ فَہُوَ دَاخِلٌ فِیْ ذٰلِکَ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : الْکَلْبُ الْعَقُوْرُ‘ ہُوَ الْکَلْبُ الْمَعْرُوْفُ‘ وَلَیْسَ الْأَسَدُ مِنْہُ فِیْ شَیْئٍ وَقَالُوْا : لَیْسَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْکَلْبَ الْعَقُوْرَ ہُوَ الْأَسَدُ‘ وَإِنَّمَا ذٰلِکَ مِنْ قَوْلِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَقَدْ وَجَدْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا‘ مَا یَدْفَعُ ذٰلِکَ‘ وَہُوَ مَا
٣٦٧٥: ابن سیلان نے ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کاٹنے والا کتا جس کے قتل کو محرم کے لیے جائز قرار دیا وہ شیر ہے بلکہ ہر درندہ عقور (کاٹنے والا) ہونے کی وجہ سے اس میں داخل ہے۔ مگر دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ” الکلب العقور “ سے وہ یہی مشہور کتا مراد ہے۔ شیر کا اس سے کچھ تعلق نہیں اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے اس میں یہ آپ نے کہیں نہیں فرمایا کہ کاٹنے والے کتے سے شیر مراد ہے بلکہ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کا قول ہے اور ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی روایات پائی ہیں جو اس کی تردید کر رہی ہیں۔ روایات ذیل میں ہیں۔
کلب عقور جس کے قتل کو محرم کے لیے مباح کیا اس سے مراد شیر ہے۔ اور ہر درندہ کاٹنے والا ہے اور وہ اس حکم میں داخل ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
کلب معقر سے معروف کاٹنے والا کتا ہی مراد ہے اس سے اسد مراد نہیں۔
سابقہ مؤقف کا جواب :
روایت ابوہریرہ (رض) جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں کہ کلب عقور شیر ہے بلکہ یہ ابوہریرہ (رض) کا کلام ہے۔ اور خود جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام میں بھی ایسی چیزیں موجود ہیں جو اس بات کی تردید کرتی ہیں۔
روایات ملاحظہ ہوں :