۳۷۰۹ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ عَنْ قَیْسٍ‘ عَنْ عَطَائٍ أَنَّ (ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ لِزَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ہَلْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُہْدِیَ لَہٗ عُضْوُ صَیْدٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ‘ فَلَمْ یَقْبَلْہٗ؟ قَالَ نَعَمْ) فَھٰذَا أَیْضًا مِثْلُ حَدِیْثِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَفِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا رَدَّ ذٰلِکَ الْعُضْوَ عَلَی الَّذِیْ أَہْدَاہُ إِلَیْہٖ‘ لِأَنَّہٗ حَرَامٌ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٣٧٠٩: عطاء نے ابن عباس (رض) سے روایت کی کہ انھوں نے زید بن ارقم (رض) کو کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں شکار کا ایک عضو پیش کیا گیا جبکہ آپ حالت احرام میں تھے۔ مگر آپ نے اسے قبول نہ فرمایا تو زید کہنے لگے : جی ہاں۔ (یہ روایت بھی پہلی روایت کی طرح ہے) ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس گوشت کو ہدیہ دینے والے کی طرف واپس کردیا کیونکہ وہ حرام تھا۔ ان کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ مضطرب روایت ہے۔ بعض رواۃ نے تو اسے مذکورہ صورت میں روایت کیا جب کہ دوسروں نے اس کو اس طرح روایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی طرف حمار وحشی ھدیہ میں بھیجا گیا تھا۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٤٠۔