۳۷۱ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ ( مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : حَدِّثِیْنِیْ فِیْ شَیْئٍ مِمَّا غَیَّرَتَ النَّارُ ، فَقَالَتْ : قَلَّ مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْتِیْنَا إِلَّا قَلَیْنَا لَہٗ جَنَّۃً تَکُوْنُ بِالْمَدِیْنَۃِ ، فَیَأْکُلُ مِنْہَا وَیُصَلِّی وَلَا یَتَوَضَّأُ).
٣٧١: محمد بن المنکدر کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ازواج میں سے کسی کے ہاں میں داخل ہوا اور میں نے گزارش کی (اماں) مجھے آگے س پکی چیز کا حکم بتلاؤ تو وہ فرمانے لگیں بہت کم ایسا ہوتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لاتے اور مدینہ میں خاص اگنے والا دانہ آپ کے لیے نہ ابالتے ہوں اور آپ اس سے تناول نہ فرماتے ہوں یعنی اکثر لوبیا جیسا دانہ ہم ابالتے تو آپ ہمارے ساتھ تناول فرماتے اور نماز ادا فرماتے اور وضو نہ کرتے۔
تخریج : بخاری کتاب البیوع باب ٥٧‘
اللغات : قلینا : اُبالنا۔ حبہ : دانہ۔ (لوبیا ‘ چنے کی طرح)