۳۷۲۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ‘ قَالَ : أَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سُوَیْدٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ أَبِیْ عَمْرٍو‘ عَنِ الْمُطَّلِبِ‘ عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا‘ فَقَالُوْا : کُلُّ صَیْدٍ صِیْدَ مِنْ أَجْلِ مُحْرِمٍ‘ وَإِنْ کَانَ الَّذِیْ صَادَہُ حَلَالٌ‘ فَہُوَ حَرَامٌ عَلٰی ذٰلِکَ الْمُحْرِمِ‘ کَمَا یَحْرُمُ عَلَیْہِ مَا تَوَلَّیْ ھُوَ صَیْدَہُ بِنَفْسِہِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : کُلُّ صَیْدٍ صَادَہٗ حَلَالٌ‘ فَلَحْمُہٗ حَلَالٌ لِکُلِّ مُحْرِمٍ وَحَلَالٌ وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ حَدِیْثِ الْمُطَّلِبِ الَّذِیْ ذَکَرْنَا‘ أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (أَوْ یُصَادَ لَکُمْ) یُحْتَمَلُ أَنْ یَّکُوْنَ أَرَادَ بِہِ " أَوْ یُصَادَ لَکُمْ بِأَمْرِکُمْ " فَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ‘ فَإِنَّہُمْ أَیْضًا کَذٰلِکَ یَقُوْلُوْنَ : کُلُّ صَیْدٍ صَادَہُ حَلَالٌ لِمُحْرِمٍ بِأَمْرِہِ‘ فَہُوَ حَرَامٌ عَلٰی ذٰلِکَ الْمُحْرِمِ‘ وَقَدْ رُوِیَتْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَادِیْثُ جَائَ تْ مَجِیْئًا مُتَوَاتِرًا فِیْ اِبَاحَۃِ لَحْمِ الصَّیْدِ الَّذِیْ قَدْ صَادَہٗ الْحَلَالُ لِلْمُحْرِمِ اِذَا لَمْ یَکُنْ صَادَہٗ بِأَمْرِہٖ‘ وَلَا بِمَعُوْنَتِہٖ إِیَّاہٗ عَلَیْہِ۔
٣٧٢٢: مطلب نے ابو موسیٰ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
حاصل روایات : ہر وہ شکار جو محرم کی خاطر شکار نہ کیا جائے یا اس کے شکار کرنے میں اس کا اشارہ کنایہ شامل نہ ہو وہ حلال ہے ‘ تائید مزید۔۔۔
ور جو محرم کی خاطر کیا جائے وہ حلال نہیں جیسا کہ روایات بالا سے ثابت ہو رہا ہے۔
فریق ثالث کا مؤقف اور دلائل و جوابات :
ہر وہ شکار جس کو غیر محرم نے شکار کیا ہو وہ محرم و غیر محرم ہر ایک کے لیے حلال ہے۔
سابقہ مؤقف کا جواب :
ان یصاد لکم کی روایت دو احتمال رکھتی ہے یعنی تمہارے حکم اور مشورہ سے شکار کیا جائے تو اس کے حرام ہونے میں کسی کو کلام نہیں ۔
کیونکہ اس میں اس کا دخل ہوگیا اور وہ احتمال بھی ہے مگر ضعیف ہے کیونکہ پہلے احتمال کی تائید میں بہت سی روایات وارد ہیں۔