hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3755

.

الطحاوي

3755
Al Tahawi
۳۷۵۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا عَفَّانَ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمٌ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ) فَھٰذَا مِثْلُ الَّذِیْ قَبْلَہٗ أَیْضًا وَقَدْ اسْتَدَلَّ بِذٰلِکَ‘ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَلٰی مَا ذَکَرْنَا‘ فَفَعَلَہٗ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَہٗ، إِلَّا أَنَّہٗ لَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ‘ أَنَّہٗ فَعَلَہٗ فِیْ حَجٍّ وَلَا فِیْ عُمْرَۃٍ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ کَانَ مِنْہُ وَہُوَ حَاجٌّ‘ فَخَالَفَ ذٰلِکَ مَا رَوٰی عَنْہُ مُجَاہِدٌ وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ کَانَ مِنْہُ فِیْ عُمْرَۃٍ‘ فَیَکُوْنُ مَذْہَبُہُ کَانَ أَنْ یَرْمُلَ فِی الْعُمْرَۃِ‘ وَلَا یَرْمُلَ فِی الْحَجَّۃِ وَمِمَّا یَدُلُّ أَیْضًا عَلَی ثُبُوْتِ الرَّمَلِ‘ وَأَنَّہٗ سُنَّۃٌ مَاضِیَۃٌ فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَہُ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ‘ حَیْثُ لَا عَدُوَّ یُرِیْہِ قُوَّتَہٗ فَمَا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ‘ مَا
٣٧٥٥: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر سے حجرتک رمل کرتے یہ روایت بھی پہلی روایت کی طرح ہے۔ اس روایت سے ابن عمر (رض) نے استدلال کیا ہے۔ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اسی طرح کیا جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا ہاں اتنی بات ہے کہ روایت میں یہ مذکور نہیں کہ آپ نے یہ حج میں کیا یا عمر میں ۔ یہ ممکن ہے کہ حج کی حالت میں کیا ہو۔ اس صورت میں یہ مجاہد والی روایت کے خلاف ہوگا۔ اور عین ممکن ہے کہ یہ عمرہ میں کیا ہو تو اس صورت میں ان کا مذہب عمرہ میں رمل ہ تھا اور حج میں رمل کا نہ تھا اور جو بات ثبوت رمل پر دلالت کرتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ حج وعمرہ میں پہلے سے چلا آرہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں بھی اسے کیا جب کہ وہاں کوئی دشمن نہ تھا جس کے سامنے قوت کا مظاہرہ کرنا ہو۔ اس سلسلہ میں یہ روایات ملاحظہ ہوں۔
حاصل روایات : ابن عباس (رض) کی روایت میں عمرہ جعرانہ کا تذکرہ ہے اور مؤقف اول میں مذکورہ روایت کا تعلق عمرۃ القضاۃ یا حدیبیہ سے ہے حنین کے غنائم کے بعد والا یہ عمرہ سابقہ علت کے ختم ہونے کے باوجود رمل کو ثابت کررہا ہے۔ پس ابن عباس (رض) کی پہلی روایت سے استدلال درست نہیں اسی طرح روایت ابن عمر (رض) میں مجاہد (رح) والی روایت کے خلاف خود ابن عمر (رض) کا فعل مذکور ہے راوی کا عمل روایت کے خلاف اس کے سابقہ روایت پر اعتماد کو ختم کردیتا ہے اور اگر ابن عمر (رض) سے یہ ثابت ہوجائے کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں رمل فرمایا تو سرے سے وہ روایت باطل ہوجائے گی۔ چنانچہ یہ روایت اس کو ثابت کرتی ہے۔