۳۷۷۴ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ : ثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِیْرٍ الْجَزَرِیُّ‘ عَنْ خُصَیْفٍ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ (مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ‘ طَافَ بِالْبَیْتِ الْحَرَامِ‘ فَجَعَلَ یَسْتَلِمُ الْأَرْکَانَ کُلَّہَا .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا لِمَ تَسْتَلِمُ ہٰذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ‘ وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَلِمُہُمَا ؟ .فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ لَیْسَ مِنَ الْبَیْتِ شَیْء ٌ مَہْجُوْرٌ .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) قَالَ : صَدَقَتْ) .فَھٰذِہِ الْآثَارُ کُلُّہَا‘ تُخْبِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ یَسْتَلِمُ فِیْ طَوَافِہٖ غَیْرَ الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَیْنِ .وَمَعَ ھٰذِہِ الْآثَارِ مِنَ التَّوَاتُرِ‘ مَا لَیْسَ مَعَ الْأَثَرِ الْأَوَّلِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ لِمَنْ ذَہَبَ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ أَیْضًا‘ عَلٰی مَنْ ذَہَبَ إِلٰی مَنْ خَالَفَہَا - أَنَّ الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَیْنِ‘ ہُمَا مَبْنِیَّانِ عَلٰی مُنْتَہَی الْبَیْتِ مِمَّا یَلِیْہِمَا‘ وَالْآخَرَانِ لَیْسَا کَذٰلِکَ‘ لِأَنَّ الْحِجْرَ وَرَائَ ہُمَا‘ وَہُوَ مِنَ الْبَیْتِ‘ وَقَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَیْنِ لَا یُسْتَلَمُ‘ لِأَنَّہٗ لَیْسَ بِرُکْنٍ لِلْبَیْتِ .فَکَانَ یَجِیْئُ فِی النَّظَرِ أَنْ یَّکُوْنَ کَذٰلِکَ الرُّکْنَانِ الْآخَرَانِ‘ لَا یُسْتَلَمَانِ‘ لِأَنَّہُمَا لَیْسَا بِرُکْنَیْنِ لِلْبَیْتِ . وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْحِجْرِ‘ أَنَّہٗ مِنَ الْبَیْتِ۔
٣٧٧٤: مجاہد نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے بیت اللہ کا طواف کیا اور تمام ارکان کو بوسہ دینے لگے۔ تو ابن عباس (رض) نے فرمایا ان دو عراقی ارکان کا تم کیوں استلام کرتے ہو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا استلام نہ کرتے تھے۔ تو معاویہ (رض) نے جواب دیا بیت اللہ کا کوئی حصہ مہجور و متروک نہیں ہے۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔۔۔ امیر معاویہ (رض) نے کہا کہ تم نے درست کہا۔ (یعنی غلطی کو تسلیم کرلیا) یہ تمام آثار جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے طواف دو یمانی ارکان کے علاوہ کسی رکن کا استلام نہ فرماتے تھے دوسری بات یہ ہے کہ ان آثار میں وہ تواتر ہے جو پہلے اثر کو حاصل نہیں اور ہمارے ہاں ایک دلیل (واللہ اعلم) یہ بھی ہے جس کو اس قول ثانی کے قائلین اول قول والے کے خلاف اختیار کرتے ہیں۔ کہ یمانی ارکان بیت اللہ کی اصل حد پر تعمیر کیے گئے ہیں جب کہ دوسرے دونوں ارکان اس طرح نہیں کیونکہ مقام حجر ان کے پچھلی جانب ہے حالانکہ وہ بیت اللہ کا حصہ ہے اور اس پر اس کا اتفاق ہے کہ ارکان یمانی کے مابین بیت اللہ کے حصہ کا استلام نہ کیا جائے گا کیونکہ وہ بیت اللہ کے ارکان نہیں ۔ پس نظر وفکر میں یہ بات آتی ہے کہ دوسرے ارکان کا بھی یہی حکم ہو کہ ان کا استلام نہ ہو کیونکہ وہ بیت اللہ شریف کے ارکان نہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجر (حطیم) کے متعلق مروی ہے کہ وہ بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔
حاصل روایات : یہ تمام آثار اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ استلام صرف دو ارکان کا ہے اور وہی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اور پھر ان آثار کے ساتھ امت کا متواتر عمل ایک مستقل دلیل ہے جس کی پشتی بانی دلیل اول کو قطعاً حاصل نہیں ہے۔
نظر طحاوی (رح) یا دلیل ثانی :
غور سے دیکھا جائے تو یہ بات صاف معلوم ہوگی کہ رکن حجر اور یمانی دونوں اپنی اصل جگہ پر قائم ہیں جو کہ بیت اللہ کے مشرقی جانب آخری کونے ہیں مگر اس کے برخلاف ارکان عراقی و شامی وہ دیوار کا حصہ ہیں بیت اللہ شریف کی حدود اس سے آگے حطیم سمیت ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ استلام ارکان کا ہے۔ دیوار کا نہیں ہے اسی وجہ سے ارکان یمانی کے درمیان دیوار کے حصہ کو استلام کرنے کا کوئی بھی قائل نہیں۔ تو جب وہ رکن اصل نہیں بلکہ دیوار کا حصہ ہیں ان کا استلام نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ وہ ارکان بیت حقیقۃً نہیں۔ اور حجر اسود کے رکن بیت ہونے کا ثبوت بہت سی روایات سے ملتا ہے ہم ان کو یہاں درج کرتے ہیں۔