۳۷۷۶ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ قَالَ : ثَنَا أَبُوَ الْأَحْوَصِ‘ عَنِ الْأَشْعَثِ‘ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ : (قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا : سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجْرِ أَمِنَ الْبَیْتِ ہُوَ ؟ قَالَ نَعَمْ .قُلْتُ : مَا لَہُمْ لَمْ یُدْخِلُوْہُ فِی الْبَیْتِ .قَالَ إِنَّ قَوْمَک قَصَّرَتْ بِہِمَ النَّفَقَۃُ .فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ بَابِہِ مُرْتَفِعٌ ؟ قَالَ فَعَلَ قَوْمُکَ لِیُدْخِلُوْا مَنْ شَائُ وْا‘ وَیَمْنَعُوْا مَنْ شَائُ وْا‘ وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَکَ حَدِیْثٌ عَہْدُہُمْ بِجَاہِلِیَّۃٍ‘ فَأَخَافُ أَنْ تُنْکِرَ قُلُوْبُہُمْ ذٰلِکَ‘ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْحِجْرَ فِی الْبَیْتِ‘ وَأَنْ أَلْزَقَ بَابَہٗ بِالْأَرْضِ) .
٣٧٧٦: اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حطیم کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وہ بیت اللہ کا حصہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جی ہاں۔ میں نے کہا پھر انھوں نے اسے بیت اللہ کی عمارت میں کیونکر داخل نہ کیا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا۔ تمہاری قوم کے پاس رقم ختم ہوگئی میں نے پوچھا بیت اللہ کا دروازہ اتنا بلند کیوں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہاری قوم نے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے کیا تاکہ جس کو وہ چاہیں داخل ہونے دیں جس کو وہ نہ چاہیں داخل نہ ہونے دیں اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی جس سے مجھے خطرہ ہے کہ ان کے دل اسلام سے برگشتہ ہوجائیں گے تو میرا خیال تھا کہ میں حطیم کو بیت اللہ میں داخل کردیتا اور دروازہ کو زمین کے برابر کردیتا۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٤٢‘ والمتنی باب ٩‘ مسلم فی الحج ٤٠٥‘ دارمی فی المناسک باب ٤٤۔