hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3790

.

الطحاوي

3790
Al Tahawi
۳۷۹۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ قَالَ : أَنَا مُوْسٰی بْنُ عُقْبَۃَ‘ عَنْ سَالِمٍ وَعَطَائٍ ‘ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کَانَ یَطُوْفُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ أُسْبُوعًا‘ وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ‘ مَا کَانَ فِیْ وَقْتِ صَلَاۃٍ .فَھٰذَا عَطَاء ٌ‘ قَدْ قَالَ بِرَأْیِہٖ مَا قَدْ ذَکَرْنَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ (لَا تَمْنَعُوْا أَحَدًا یَطُوْفُ بِھٰذَا الْبَیْتِ وَیُصَلِّیْ أَیَّ سَاعَۃٍ شَائَ ‘ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ) .فَقَدْ حُمِلَ ذٰلِکَ‘ عَلَی خِلَافِ مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی .وَکَانَ النَّظَرُ فِیْ ذٰلِکَ - لَمَّا اخْتَلَفُوْا ھٰذَا الِاخْتِلَافَ - أَنَّا رَأَیْنَا طُلُوْعَ الشَّمْسِ وَغُرُوْبَہَا‘ وَنِصْفَ النَّہَارِ‘ یَمْنَعُ مِنْ قَضَائِ الصَّلَوَاتِ الْفَائِتَاتِ‘ وَبِذٰلِکَ جَائَ تِ السُّنَّۃُ (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ تَرْکِہِ قَضَائَ الصُّبْحِ الَّتِیْ نَامَ عَنْہَا إِلَی ارْتِفَاعِ الشَّمْسِ وَبَیَاضِہَا) .فَإِذَا کَانَ مَا ذَکَرْنَا یَنْہَیْ عَنْ قَضَائِ الْفَرَائِضِ الْفَائِتَاتِ‘ فَہُوَ عَنِ الصَّلَوَاتِ لِلطَّوَافِ أَنْہَی .وَقَدْ قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ (ثَلاَثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَانَا أَنْ نُصَلِّیَ فِیْہِنَّ‘ وَأَنْ نَقْبُرَ فِیْہِنَّ مَوْتَانَا‘ حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتّٰی تَرْتَفِعَ‘ وَحِیْنَ یَقُوْمُ قَائِمُ الظَّہِیْرَۃِ حَتّٰی تَمِیْلَ‘ وَحِیْنَ تَضَیَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ) وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ بِإِسْنَادِہٖ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ کِتَابِنَا ھٰذَا .فَإِذَا کَانَتْ ھٰذِہِ الْأَوْقَاتُ تَنْہٰی عَنِ الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَائِزِ‘ فَالصَّلَاۃُ لِلطَّوَافِ أَیْضًا کَذٰلِکَ‘ وَکَذٰلِکَ کَانَتِ الصَّلَاۃُ بَعْدَ الْعَصْرِ قَبْلَ تَغَیُّرِ الشَّمْسِ‘ وَبَعْدَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ‘ مُبَاحَۃً عَلَی الْجَنَائِزِ‘ وَمُبَاحَۃً فِیْ قَضَائِ الصَّلَاۃِ الْفَائِتَۃِ‘ وَمَکْرُوْہَۃً فِی التَّطَوُّعِ‘ وَکَانَ الطَّوَافُ یُوْجِبُ الصَّلَاۃَ حَتّٰی یَکُوْنَ وُجُوْبُہَا کَوُجُوْبِ الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَائِزِ .فَالنَّظْرُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا أَنْ یَّکُوْنَ حُکْمُہَا بَعْدَ وُجُوْبِہَا‘ کَحُکْمِ الْفَرَائِضِ الَّتِیْ قَدْ وَجَبَتْ‘ وَحُکْمِ الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَائِزِ الَّتِیْ قَدْ وَجَبَتْ .فَتَکُوْنُ الصَّلَاۃُ لِلطَّوَافِ‘ تُصَلَّیْ فِیْ کُلِّ وَقْتٍ یُّصَلِّی فِیْہِ عَلَی الْجَنَائِزِ‘ وَتُقْضَیْ فِیْہِ الصَّلَاۃُ الْفَائِتَۃُ‘ وَلَا تُصَلَّیْ فِیْ کُلِّ وَقْتٍ لَا یُّصَلِّی فِیْہِ عَلَی الْجَنَازَۃِ‘ وَلَا تُقْضَیْ فِیْہِ صَلَاۃٌ فَائِتَۃٌ .فَھٰذَا ہُوَ النَّظَرُ عِنْدَنَا‘ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ‘ عَلٰی مَا قَالَ عَطَاء ٌ‘ وَإِبْرَاہِیْمُ‘ وَمُجَاہِدٌ‘ وَعَلٰی مَا قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَإِلَیْہِ نَذْہَبُ وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانَ .وَہُوَ خِلَافُ قَوْلِ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٣٧٩٠: سالم وعطاء بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) صبح کے بعد طواف کرتے اور عصر کے بعد ایک ہفتہ طواف کرتے اور جب تک نماز کا وقت ہوتا طواف کی دو رکعت ادا کرتے یہ عطاء ہیں انھوں نے یہ اپنے اجتہاد سے کہا جو ہم نے بیان کیا ہے حالانکہ انھوں نے ابن عباس (رض) سے فصل اول میں روایت نقل کی ہے۔ جو اس کے خلاف ہے مگر ان کی رائے اس کے خلاف تھی جس کا اظہار انھوں نے مندرجہ بالا اثر میں کردیا۔
نظر طحاوی (رح) :
جناب رکعات طواف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو ہم نے اس کو پاٹنے کے لیے غور کیا کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب اور نصف النہار ‘ فوت شدہ نمازوں کو ادائیگی سے روک دیتے ہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ نماز فجر کی قضا میں یہی منقول ہے کہ آپ ارتفاع آفتاب تک رکے رہے جب قضا فرائض ممنوع ہوئے تو طواف کی رکعات بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوں گی اور عقبہ بن عامر (رض) کی روایت تین اوقات کے متعلق گزر چکی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں نماز پڑھنے اموات کو دفن کرنے (نمازِ جنازہ پڑھنا مراد ہے کیونکہ نماز کے بعد دفن ہوگا) جبکہ سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہوجائے اور جب دوپہر کا وقت یہاں تک کہ زوال ہوجائے اور جب سورج غروب کی طرف جھک رہا ہو یہاں تک کہ غروب ہوجائے۔ (مسلم فی المسافرین ٢٩٣) گزشتہ صفحات میں اوقات مکروہ کے باب میں یہ روایت ذکر ہوچکی۔
جب ان تین اوقات میں نماز جنازہ سے بھی روک دیا گیا تو طواف کی رکعات بھی لازماً ممنوع ہوں گی اسی طرح عصر کے بعد اصفرار آفتاب سے پہلے نماز اور صبح کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے نماز۔ ان دو اوقات میں نوافل کی ممانعت کردی گئی مگر جنائز کو مباح کردیا گیا اور فوت شدہ نمازوں کو بھی مباح قرار دیا گیا طواف کی رکعات نفل نہیں بلکہ واجب ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا وجوب نماز جنازہ کی طرح ہے۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وجوب کے بعد ان کا حکم فرائض کی طرح ہو جو کہ لازم ہیں اور نماز جنازہ کی طرح ہو جو کہ واجب و لازم ہے۔ پس نماز طواف ہر اس وقت میں پڑھی جاسکتی ہے جس میں جنازہ جائز ہوسکتا ہے اور فوت شدہ نماز قضاء کی جاسکتی ہے اور ان اوقات میں نہیں پڑھ سکتے جن میں نہ جنازہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ نماز فائتہ ادا ہوسکتی ہے نظر کا یہی تقاضا ہے اس کو عطاء ابراہیم و مجاہد نے اختیار کیا اور ابن عمر (رض) کا قول ہے اور ہمارا اپنا رجحان بھی یہی ہے اور سفیان ثوری کا قول یہی ہے اور یہ ائمہ احناف کے قول کے خلاف ہے ہمارے متاخرین علماء میں علامہ عبدالحی (رح) نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
امام طحاوی (رح) نے اب تک جہاں اپنا رجحان ظاہر کیا وہاں صرف اشارہ اور کنایہ استعمال کیا مگر یہ پہلا موقعہ ہے کہ انھوں نے ” الیہ تذہب “ کہہ کر اپنے رجحان کی ترجمانی کی۔ کعات طواف کا وجوب بھی اسی کا متقاضی ہے۔