hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3796

.

الطحاوي

3796
Al Tahawi
۳۷۹۶ : وَحَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ‘ قَالُوْا : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : سَمِعْت طَارِقَ بْنَ شِہَابٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُنِیْخٌ بِالْبَطْحَائِ فَقَالَ لِیْ : بِمَ أَہْلَلْتُ؟ قَالَ قُلْتُ : أَہْلَلْت کَإِہْلَالِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَحْسَنْتُ، طُفْ بِالْبَیْتِ‘ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ‘ ثُمَّ أَحْلِلْ) فَفَعَلْت .فَأَتَیْتُ امْرَأَۃً مِنْ قَیْسٍ فَفَلَّتْ رَأْسِی فَکُنْتُ أُفْتِی النَّاسَ بِذٰلِکَ‘ حَتّٰی کَانَ زَمَانُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَقَالَ رَجُلٌ : یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ‘ رُوَیْدًا بَعْضَ فُتْیَاک‘ فَإِنَّک لَا تَدْرِیْ مَا أَحْدَثَ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی النُّسُکِ بَعْدَک فَقُلْتُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ مَنْ کُنَّا أَفْتَیْنَاہُ فُتْیَا فَلْیَتَّئِدْ‘ فَإِنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ قَادِمٌ فَبِہٖ فَائْتَمُّوْا .فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ أَتَیْتُہٗ ‘ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ‘ فَقَالَ لِیْ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : (إِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللّٰہِ‘ فَإِنَّ کِتَابَ اللّٰہِ یَأْمُرُنَا بِالْاِتْمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَحِلَّ حَتّٰی بَلَغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ) .
٣٧٩٦: ابن شہاب نے ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی بطحاء میں بٹھانے والے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے کیا کیا احرام باندھا ؟ میں نے کہا میں نے وہی احرام باندھا جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باندھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے خوب کیا۔ بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کی سعی کر کے حلال ہوجاؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر میں قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے تھوڑے سے بال لیے (کاٹے) میں لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا کہ حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ عمر (رض) کا زمانہ آیا تو ایک شخص نے کہا اے عبداللہ بن قیس اپنے فتویٰ کو چھوڑ دو تمہیں معلوم نہیں کہ امیرالمؤمنین نے تیرے بعد کون سی نئی بات پیدا کی چنانچہ میں نے کہا اے لوگو ! میں نے جن کو فتویٰ دیا سو دیا اب امیرالمؤمنین تشریف لا رہے ہیں ان کی اقتداء کرو پس جب عمر (رض) آگئے تو میں ان کی خدمت میں آیا اور اس بات کا ان کے سامنے تذکرہ کیا تو عمر (رض) فرمانے لگے ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تکمیل کا حکم دیا ہے اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنانا چاہیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک حلال نہ ہوئے یہاں تک کہ ہدی اپنے حلال کے مقام تک نہیں پہنچی یعنی نحر کے دن رمی کے بعد۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٣٢‘ مسلم فی الحج ١٥٤۔