۳۸۰۶ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ‘ عَنْ مَنْصُوْرٍ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنِ الْأَسْوَدِ‘ (عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا وَلَا نَرَی إِلَّا أَنَّہٗ الْحَجُّ‘ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ‘ طَافَ وَلَمْ یَحِلَّ‘ وَکَانَ مَعَہُ الْہَدْیُ‘ فَطَافَ مَنْ مَعَہُ مِنْ نِسَائِہِ وَأَصْحَابِہٖ، فَحَلَّ مِنْہُمْ مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ الْہَدْیُ) .
٣٨٠٦: اسود نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے ہم مدینہ سے نکلے ہمارے خیال میں صرف حج تھا جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ پہنچے اور طواف کر کے آپ نے احرام نہ کھولا اور آپ کے ساتھ ہدی تھی آپ کے ساتھ جو اصحاب اور ازواج تھیں انھوں نے بھی طواف کیا پس وہ تو حلال ہوگئے جن کے ساتھ ہدی نہ تھی۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٣٤۔