۳۸۱۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِیْ إِسْرَائِیْلَ‘ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنِ ابْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : (قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ أَرَأَیْتُ فَسْخَ حَجِّنَا ھٰذَا‘ لَنَا خَاصَّۃً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً .قَالَ : بَلْ لَکُمْ خَاصَّۃً) .
٣٨١١: ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے ابن بلال بن حارث سے انھوں نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے گزارش کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ہمارا یہ حج فسخ ہوجائے گا اور یہ فسخ ہمارے ساتھ خاص ہوگا یا عام لوگوں کے لیے یہی حکم ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یہ تمہارے ساتھ خاص ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی المناسک باب ٤٢۔