hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3838

.

الطحاوي

3838
Al Tahawi
۳۸۳۸ : وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدٍ‘ قَالَا : ثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ نَجِیْحٍ‘ عَنْ عَطَائٍ (عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہَا اِذَا رَجَعْتُ إِلٰی مَکَّۃَ‘ فَإِنَّ طَوَافَک یَکْفِیْکَ لِحَجِّکَ وَعُمْرَتِک) .قَالُوْا : فَقَدْ أَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ الَّذِیْ عَلَیْہَا لِحَجَّتِہَا وَعُمْرَتِہَا‘ طَوَافٌ وَاحِدٌ .قِیْلَ لَہُمْ : لَیْسَ ہٰکَذَا لَفْظُ ھٰذَا الْحَدِیْثِ الَّذِیْ رَوَیْتُمُوْہُ‘ إِنَّمَا لَفْظُہُ أَنَّہٗ قَالَ (طَوَافُک لِحَجِّک یَجْزِیک لِحَجِّکَ وَعُمْرَتِک) فَأَخْبَرَ أَنَّ الطَّوَافَ الْمَفْعُوْلَ لِلْحَجِّ یَجْزِیْکَ عَنِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘ وَأَنْتُمْ لَا تَقُوْلُوْنَ ھٰذَا‘ إِنَّمَا تَقُوْلُوْنَ إِنَّ طَوَافَ الْقَارِنِ‘ طَوَافٌ لِقِرَانِہٖ لَا لِحَجَّتِہٖ دُوْنَ عُمْرَتِہٖ‘ وَلَا لِعُمْرَتِہٖ دُوْنَ حَجَّتِہٖ‘ مَعَ أَنَّ غَیْرَ ابْنِ أَبِیْ نَجِیْحٍ‘ مِنْ أَصْحَابِ عَطَائٍ ‘ قَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ بِعَیْنِہِ عَنْ عَطَائٍ ‘ عَلٰی مَعْنَیْ غَیْرِ ھٰذَا الْمَعْنَی .
٣٨٣٨: عطاء نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا جب تم مکہ لوٹ جاؤ تمہارا یہ طواف تمہارے حج وعمرہ کے لیے کافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کی خبر دی ہے کہ اس کے حج وعمرہ کی وجہ سے اس پر ایک طواف لازم ہوگا اس کے جواب میں ان کو کہا جائے گا ۔ اس روایت کے الفاظ اس طرح نہیں جیسا کہ تم نے روایت پیش کی اس کے الفاظ اس طرح ہیں طوافک لحجک یجز یک لحجک وعمر تک) کہ تمہارا حج کا طواف تمہارے حج وعمرہ کے لیے کافی ہوجائے گا ۔ اس میں اس بات کی اطلاع دی ہے کہ وہ حج کے لیے کیا جانے والا طواف تمہارے حج وعمرہ کے لیے کفایت کرے گا اور تمہارے ہاں یہ بات نہیں بلکہ تم تو کہتے ہو کہ قارن کا طواف اس کے حج وعمرہ کے لیے کافی ہے۔ مگر تم یہ نہیں کہتے بلکہ تم کہتے ہو کہ قارن کا طواف اس کے حج کے لیے نہیں عمرے کے بغیر اور نہ فقط عمرہ کا بغیر حج کے ہے اور یہ بات بھی ہے کہ ابن ابی نجیح جو عطاء کے شاگردوں سے ہیں کے علاوہ دیگر نے اس روایت کو علماء سے بعینہ اس کے علاوہ مفہوم میں ذکر کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٥٣‘ مسند احمد ٦؍١٢٣‘ ٢٥٣۔
طریق استدلال : اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے حج وعمرہ کرنے والے پر ایک طواف ہے۔
الجواب :
جن الفاظ سے آپ عائشہ (رض) کی روایت نقل کر رہے ہیں وہ اس روایت کے الفاظ نہیں بلکہ روایت کے الفاظ اس طرح ہیں ” طوافک لحجک یجزیک و عمرتک “ یعنی تمہارے حج کا طواف تمہارے حج وعمرہ کے لیے کافی ہے حالانکہ تم بھی اس کے قائل نہیں ہو بلکہ تم کہتے ہو قارن کا طواف تو حج قران ہی کے لیے ہوگا یعنی ایک طواف ہوگا یہ مطلب نہیں کہ عمرہ کی نیت نہ ہو بلکہ صرف حج کی۔ اور یہ بھی نہیں کہ طواف حج کی نیت تو نہیں مگر صرف عمرے کی نیت سے طواف کیا جائے تو وہ دونوں کو کافی ہوجائے۔ عطاء بن ابی رباح کے دو شاگرد اس روایت کو نقل کر رہے ہیں مذکور بالا اشکال والی روایت عبداللہ بن ابی نجیح نے نقل کی یہ بہت مختصر روایت ہے دوسرے شاگرد عبدالملک ہیں ان کی روایت مفصل ہے اس کو ملاحظہ کرلینے کے بعد کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔ روایت یہ ہے۔