hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3858

.

الطحاوي

3858
Al Tahawi
۳۸۵۸ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ‘ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : أَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ أَبِیْ خَالِدٍ‘ عَنِ الشَّعْبِیِّ‘ عَنْ (عُرْوَۃَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ ہَلْ لِیْ مِنْ حَجٍّ وَقَدْ أَنْضَیْتُ رَاحِلَتِیْ؟ فَقَالَ : مَنْ صَلَّیْ مَعَنَا ھٰذِہٖ الصَّلَاۃَ‘ وَقَدْ وَقَفَ مَعَنَا قَبْلَ ذٰلِکَ وَأَفَاضَ مِنْ عَرَفَۃَ لَیْلًا أَوْ نَہَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ وَقَضٰی تَفَثَہٗ) .
٣٨٥٨: شعبی نے عروہ بن مصرس (رض) سے نقل کیا کہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا جبکہ آپ مزدلفہ میں تھے میں نے سوال کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میرا حج قبول ہوگا جب کہ میں نے چلا چلا کر اپنی اونٹنی کو کمزور کر ڈالا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز (نماز فجر) ادا کی اور اس سے پہلے اس نے ہمارے ساتھ وقوف مزدلفہ کیا اور وہ عرفات سے ہو کر لوٹا خواہ دن رات کی کسی گھڑی میں ہو اس کا حج پورا ہوگیا اور اس نے اپنے میل کچیل کو دور کرلیا یعنی احرام کھول کر مونچھیں ناخن بال وغیرہ لے لیے اور میل کچیل دور کرلی۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٦٨‘ ترمذی فی الحج باب ٥٧‘ نسائی فی الحج باب ٢١١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٥٧‘ مسند احمد ٤‘ ١٥؍٢‘ ٢٦١۔
مزدلفہ میں وقوف کے سلسلہ میں تین مسالک منقول ہیں :
نمبر 1: حسن بصری ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کے ہاں وقوف مزدلفہ رکن اور فرض ہے۔
نمبر 2: ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا و محدثین کے ہاں وقوف مزدلفہ واجب یا سنت مؤکدہ ہے۔
نمبر 3: عطاء و اوزاعی رحمہم اللہ کے ہاں وقوف مزدلفہ سنت مؤکدہ ہے۔