hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3863

.

الطحاوي

3863
Al Tahawi
۳۸۶۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ قَالَ : أَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْقَاسِمِ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ (عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَتْ سَوْدَۃُ الْمَرْأَۃُ ثَبِطَۃً‘ ثَقِیْلَۃً‘ فَاسْتَأْذَنَتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِیْضَ مِنْ جَمْعٍ‘ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ فَأَذِنَ لَہَا‘ وَلَوَدِدْتُ أَنِّیْ کُنْتُ اسْتَأْذَنْتہ فَأَذِنَ لِی) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَسَقَطَ عَنْہُمَ الْوُقُوْفُ بِمُزْدَلِفَۃَ لِلْعُذْرِ‘ وَرَأَیْنَا عَرَفَۃَ‘ لَا بُدَّ مِنَ الْوُقُوْفِ بِہَا‘ وَلَا یَسْقُطُ ذٰلِکَ لِعُذْرٍ .فَمَا سَقَطَ بِالْعُذْرِ‘ فَہُوَ الَّذِیْ لَیْسَ مِنْ صُلْبِ الْحَجِّ‘ وَمَا لَا بُدَّ مِنْہُ‘ فَلاَ یَسْقُطُ بِعُذْرٍ وَلَا بِغَیْرِہِ‘ فَہُوَ الَّذِیْ مِنْ صُلْبِ الْحَجِّ .أَلَا تَرٰی أَنَّ طَوَافَ الزِّیَارَۃِ ہُوَ مِنْ صُلْبِ الْحَجِّ‘ وَأَنَّہٗ لَا یَسْقُطُ عَنِ الْحَائِضِ بِالْعُذْرِ‘ وَأَنَّ طَوَافَ الصَّدْرِ لَیْسَ مِنْ صُلْبِ الْحَجِّ‘ وَہُوَ یَسْقُطُ عَنِ الْحَائِضِ بِالْعُذْرِ‘ وَہُوَ الْحَیْضُ .فَلَمَّا کَانَ الْوُقُوْفُ بِمُزْدَلِفَۃَ مِمَّا یَسْقُطُ بِالْعُذْرِ‘ کَانَ مِنْ شَکْلِ مَا لَیْسَ بِفَرْضٍ‘ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ مَا وَصَفْنَا .وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
٣٨٦٣: قاسم نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے سودہ (رض) نے بھاری بھر کم جسامت کی وجہ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مزدلفہ سے منیٰ لوٹنے کی اجازت طلب کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت مرحمت فرما دی اور میری بھی تمنا تھی کہ کاش میں بھی اجازت طلب کرلیتی تو مجھے بھی اجازت مل جاتی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے عذر کی وجہ سے وقوف مزدلفہ کو ساقط کردیا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وقوف عرفہ کسی سے بھی عذر کی وجہ سے بھی ساقط نہیں۔ پس جس کو ساقط کیا گیا معلوم ہوا وہ رکن حج نہیں اور جس کو ساقط نہیں کیا وہ رکن حج ہوا اسی وجہ سے کسی بھی عذر سے وہ ساقط نہ ہو اور نہ بلا عذر ساقط ہوا ذرا توجہ تو کرو ۔ کہ طواف زیادہ بھی ارکان حج سے ہے ‘ اسی لیے وہ حائض سے بھی باوجود عذر کے ساقط نہیں اور طواف ساقط ہوجاتا ہے۔ پس جب یہ بات دیکھی کہ وقوف مزدلفہ تو عذر سے ساقط ہوجاتا ہے اور یہ اس کی صورت ہے جو فرض نہیں پس اس سے یہ ثابت ہوگیا جو ہم نے بیان کیا اور وہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف ومحمدرحمہم اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٩٨‘ مسلم فی الحج ٢٩٣؍٢٩٤‘ نسائی فی الحج باب ٢٠٩؍٢١٤‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٦٢‘ دارمی فی المناسک باب ٥٣‘ مسند احمد ٦‘ ٣٠؍٩٤‘ ٩٤؍١٣٣‘ ١٦٤؍٢١٤۔
قول طحاوی (رح) :
عذر کی وجہ سے ان سے وقوف مزدلفہ کو ساقط فرما دیا اور عرفات کے بارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا وقوف کسی سے بھی ساقط نہیں فرمایا نہ بچے سے نہ عورت سے نہ لنگڑے نہ اپاہج سے معلوم ہوا عرفات عذر کی وجہ سے ساقط بھی نہیں ہوسکتا اور جو عذر کی وجہ سے ساقط ہوجائے وہ حج کا بنیادی رکن نہیں کہ جس کے بغیر چارہ کار نہ ہو وہ عذر و بلاعذر کسی صورت سے ساقط نہیں ہوتا پس وہی حج کا بنیادی رکن ہے غور کرو کہ طواف زیارت وہ حج کا رکن ہے وہ حائضہ عورت سے بھی ساقط نہیں ہوتا بہرصورت کرنا پڑتا ہے۔ اور طواف صدر وہ ارکان حج سے نہیں وہ عذر حیض کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے۔
پس جب وقوف مزدلفہ عذر کمزوری کی وجہ سے ساقط ہوا تو یہ ان کے ساتھ ہوا جو کہ فرض نہیں۔ گویا تقاضائے نظر سے بھی مزدلفہ کا وقوف فرض ثابت نہیں ہوتا یہی ہمارے ائمہ ثلاثہ ‘ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں وقوف مزدلفہ کی عدم فرضیت پر دو دلیلیں پیش کی گئی ہیں اور فریق اوّل کے جوابات دے کر اس بات کو بےغبار ثابت کیا ہے۔