hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3885

.

الطحاوي

3885
Al Tahawi
۳۸۸۵ : حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ یَزِیْدَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَنَا بِشْرٌ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ‘ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ‘ وَلَمْ یَجْعَلْ بَیْنَہُمَا شَیْئًا .فَکَانَ مُحَالًا أَنْ یَّکُوْنَ أَدْخَلَ فِیْ ذٰلِکَ أَذَانًا إِلَّا وَقَدْ عَلِمَہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَلَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ ھٰذَا أَحَبُّ إِلَیْنَا‘ لِمَا شَہِدَ لَہٗ مِنَ النَّظَرِ .
٣٨٨٥: سعید بن جبیر نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے مغرب و عشاء کو مزدلفہ میں جمع کیا اور ایک اذان اور اقامت کہی ان کے درمیان اور کوئی چیز نہیں کی۔ اور یہ بات ناممکن ہے کہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھے بغیر اذان کہی ہو اور جو کچھ ہم نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے وہ ہمارے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے اس لیے کہ قیاس اس کا مؤید ہے۔
یہ بات ناممکن ہے کہ انھوں نے اپنی طرف سے اس میں اذان داخل کردی ہو سوائے اس کے کہ انھوں نے اسے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو جانا ہو۔ حاصل یہ ہوا کہ ابن عمر (رض) کی روایات میں باہمی تعارض پایا جاتا ہے۔ مگر جابر (رض) کی روایت میں موجود نہیں اسی لیے ہم نے اس کو راجح قرار دیا ہے۔ اور نظر کا تقاضا بھی یہی ہے۔
نوٹ : اس باب میں طحاوی (رح) کا رجحان فریق ثالث کی طرف ہے اسی وجہ سے اس کی ترجیح کے لیے آخری دم تک زور لگایا اور آخر میں ابن عمر (رض) کی روایت میں تعارض والی بات کی وجہ سے اس کو مرجوع قرار دیا حالانکہ کثرت طرق سے فریق ثانی کا مؤقف مضبوط ہے۔ واللہ اعلم۔