hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3899

.

الطحاوي

3899
Al Tahawi
۳۸۹۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنْ سُفْیَانَ‘ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ‘ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ‘ عَنْ (ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَفَضْنَا مِنْ جَمْعٍ‘ فَلَمَّا أَنْ صِرْنَا بِمِنًی‘ قَالَ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَرْمُوْا جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ) .فَبَیَّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَہُمْ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ وَقْتَ الْاِصْبَاحِ الَّذِیْ أَمَرَہُمْ بِالرَّمْیِ فِیْہٖ‘ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ فِی الْفَصْلِ الَّذِیْ قَبْلَ ھٰذَا‘ وَأَنَّہٗ بَعْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ .فَھٰذَا الْحَدِیْثُ ہُوَ أَوْلَی مِنْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ‘ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ لِأَنَّ ھٰذَا قَدْ تَوَاتَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا بِأَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ إِیَّاہُمْ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .وَلِأَنَّ الْاِفَاضَۃَ مِنْ مُزْدَلِفَۃَ إِنَّمَا رَخَّصَ لِلضُّعَفَائِ فِیْہَا لَیْلًا‘ لِئَلَّا یُصِیْبَہُمْ حُطَمَۃُ النَّاسِ فِیْ وَقْتِ إِفَاضَتِہِمْ فَإِذَا صَارُوْا إِلَی " مِنًی " أَمْکَنَہُمْ مِنْ رَمْیِ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ‘ بَعْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ‘ قَبْلَ مَجِیْئِ النَّاسِ‘ مَا یُمْکِنُ غَیْرَ الضُّعَفَائِ اِذَا جَائُ وْا وَلِأَنَّ غَیْرَ الضُّعَفَائِ ‘ إِنَّمَا یَأْتُوْنَہُمْ فِیْ وَقْتِ مَا یُفِیضُوْنَ‘ وَذٰلِکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ‘ ہٰکَذَا أَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
٣٨٩٩: حسن عرنی نے ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ہم مزدلفہ سے لوٹے۔ جب ہم منیٰ سے روانہ ہونے لگے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا طلوع آفتاب سے پہلے رمی مت کرو۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کے وقت کی وضاحت فرمائی جس میں ان کو کنکریاں مارنے کی اجازت مر حمت فرمائی تھی اور ہم اس روایت کو اسی فصل میں پہلے ذکر کر آئے اور وہ وقت طلوع آفتاب کے بعد کا وقت ہے۔ پس یہ روایت شعبہ مولیٰ ابن عباس (رض) کی روایت سے اولیٰ ہے کیونکہ یہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے ان کو مذکورہ بات کا حکم فرمایا اور مزدلفہ سے واپسی کا اجازت نامہ تو کمزور لوگوں کے لیے تھا تاکہ بھیڑ بھاڑ سے بچ جائیں ۔ پس منی میں پہنچ جانے کے بعد ان کو لوگوں کے پہنچنے سے پہلے طلوع آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا ممکن ہوجاتا ہے۔ جب طاقت ور آجائیں تو پھر ضعفاء کو کنکریاں مارنا ممکن نہیں رہتا اور طاقتور لوگ طلوع کے بعد آتے ہیں اور یہ وقت تو طلوع آفتاب سے پہلے کا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسی طرح حکم فرمایا۔
نوٹ : اس سے معلوم ہوا کہ اس الاصباح سے مراد جس میں رمی کا حکم فرمایا وہ طلوع آفتاب کے بعد کا وقت ہے۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ١٠٠‘ مسلم فی المساجد ٢٨٧‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٤‘ ترمذی فی الحج باب ٥٨؍٦٠‘ نسائی فی الحج باب ٢١٣۔
نوٹ : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح سے مراد طلوع آفتاب ہے یہ روایت شعبہ مولیٰ ابن عباس (رض) کی روایت سے اولیٰ ہے کیونکہ امر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہ بات ابن عباس (رض) سے تواتر سے پہنچی ہے۔
نمبر 2: کمزوروں کو تو رات لوٹنے کی اس لیے اجازت مرحمت فرمائی تاکہ وہ لوگوں کی بھیڑ سے بچ جائیں جب وہ رات کو منیٰ پہنچ چکیں گے تو وہ جمرہ عقبہ کی رمی لوگوں کے پہنچنے سے پہلے کرلیں گے کیونکہ لوگوں کی آمد پر ان کو رمی ممکن نہیں۔ یہ ضعفاء کے علاوہ دوسروں کے لیے نہیں کیونکہ وہ تو طلوع آفتاب سے پہلے لوٹیں گے ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح حکم فرمایا۔ یہ روایات اس کی دلیل ہیں۔