۳۹۰۱ : وَحَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنْ سُفْیَانَ‘ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ قَالَ : کُنَّا وُقُوْفًا مَعَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِجَمْعٍ‘ فَقَالَ : (إِنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ کَانُوْا لَا یُفِیضُوْنَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ‘ وَیَقُوْلُوْنَ أَشْرِقْ ثَبِیْرُ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَالَفَہُمْ‘ فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ) .
٣٩٠١: ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت نقل کی ہے کہ ہم عمر فاروق (رض) کے ساتھ مزدلفہ میں وقوف کرنے والے تھے۔ انھوں نے فرمایا اہل جاہلیت طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے نہ لوٹتے تھے اور وہ کہا کرتے تھے۔ اے جبل ثبیر تو سورج کی چمک دکھا۔ اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے لوٹے۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ١٠٠‘ ترمذی فی الحج باب ٦٠‘ نسائی فی المناسک باب ٢١٣‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٦١‘ دارمی فی المناسک باب ٥٥‘ مسند احمد ١‘ ٣٩؍٤٢‘ ٥٠؍٥٢۔