۳۹۰۹ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَیْدٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ خَالِدٍ الْأَحْمَرُ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : (أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ یَوْمِہٖ) ، فَلَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَطُفْ طَوَافَ الزِّیَارَۃِ یَوْمَ النَّحْرِ إِلَی اللَّیْلِ‘ اسْتَحَالَ أَنْ یَّکُوْنَ بِہِ - إِلٰی حُضُوْرِ أُمِّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا إِلٰی مَکَّۃَ قَبْلَ ذٰلِکَ - حَاجَۃٌ لِأَنَّہٗ إِنَّمَا یُرِیْدُہَا لِأَنَّہٗ فِیْ یَوْمِہَا‘ وَلِیُصِیْبَ مِنْہَا مَا یُصِیْبُ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِہٖ، وَذٰلِکَ لَا یَحِلُّ لَہٗ مِنْہَا إِلَّا بَعْدَ الطَّوَافِ .فَأَشْبَہَ الْأَشْیَائِ - عِنْدَنَا‘ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - أَنْ یَّکُوْنَ أَمَرَہَا أَنْ تُوَافِیَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ فِیْ غَدٍ یَوْمِ النَّحْرِ‘ فِیْ وَقْتِ یَکُوْنُ فِیْہِ حَلَالًا بِمَکَّۃَ‘ وَقَدْ عَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ وَقْتَ رَمْیِ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فِیْ یَوْمِ النَّحْرِ‘ بِفِعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٣٩٠٩: عبدالرحمن بن القاسم نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے کہ وہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن کے آخر میں (مکہ) کی طرف لوٹے۔ جب کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم نحر کی رات تک طواف زیارت بھی نہ کیا تھا ۔ تو بات ناممکن ہے کہ آپ کو اس طواف سے قبل حضرات امّ سلمہ (رض) سے کوئی حاجت ہو ۔ کیونکہ یہ ان کی باری کا دن تھا اور آپ نے ان سے وہی بات چاہی جو ایک مرد اپنی بیوی سے چاہتا ہے اور یہ طواف زیارت کے بعد ہی حلال ہوسکتا تھا ہمارے ہاں سب سے بہتر یہی معلوم ہوتا ہے (واللہ اعلم) کہ آپ نے ان کو یہ حکم فرمایا کہ وہ یوم نحر کے دوسرے دن مکہ مکرمہ میں نماز فجر ادا کریں ‘ جب کہ آپ مکہ میں احرام سے فارغ ہوچکے ہوں گے۔ اور مسلمانوں نے آپ کے کنکریاں مارنے کا عمل جمرہ عقبہ کی رمی سے معلوم کرلیا تھا۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٧٧‘ مسند احمد ٦؍٩٠۔
جب اس روایت سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم نحر رات تک ابھی طواف زیارت نہ کیا تھا تو یہ ناممکن بات ہے کہ یوم نحر کی صبح آپ امّ سلمہ (رض) کے ساتھ مکہ میں موجود ہوں کیونکہ ان کو فرمانے کا مقصد ان کے حق کی ادائیگی تھی جو طواف زیارت سے قبل ممکن ہی نہیں۔
پس اس کی سب سے بہتر توجیہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یوم سے اگلے دن مکہ میں ملاقات کا وعدہ فرمایا جبکہ آپ احرام سے فارغ ہوجائیں گے اور مسلمانوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کا وقت یوم نحر کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل سے معلوم کرلیا۔ جیسا کہ یہ روایات اس کی تائید کر رہی ہیں۔